خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 443

خطبات محمود ۴۴۳ سال ۱۹۳۹ء مدے کو آپ پورا کرے ہم اپنی جانوں کو کیوں ہلاکت میں ڈالیں؟ موسیٰ اور اس کا خدا دونوں جا کر دشمنوں سے لڑیں اور جب فتح ہو جائے تو ہمیں آ کر بتا دیا جائے ہم کنعان کی سرزمین میں داخل ہو جائیں گے۔پھر جانتے ہو اس کا کیا نتیجہ ہوا ؟ باوجود وعدہ کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے وہ زمین ان پر چالیس سال تک حرام کر دی اور ان پر ایسی ذلت نازل کی کہ وہ تمام لوگ جنہوں نے یہ اعتراض کیا تھا ایک ایک کر کے جنگلوں میں بھٹک کر مر گئے اور پھر ان کی نسلوں کے ذریعہ یہ الہی وعدہ پورا ہوا۔تو جہاں تدبیر کا تعلق ہو وہاں باوجود وعدے کے، باوجود الہی فیصلہ کے، باوجود الہی مشیت اور ارادہ کے اس وقت تک خدا تعالیٰ کی نصرت نازل نہیں ہوتی جب تک تمام کی تمام قوم قربانی کے لئے تیار نہیں ہو جاتی اور اگر کوئی قربانی کے لئے تیار نہ ہو تو با وجود وعدوں کے وہ انعامات اس قوم کو نہیں دیئے جاتے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جنگ بدر کے لئے نکلے تو گل تین سو تیرہ صحابہ آپ کے ساتھ تھے۔وہ بھی ایسے جو فنونِ جنگ سے نا آشنا اور ساز وسامان سے تہی دست تھے۔صحابہ کا پہلے یہ خیال تھا کہ ہماری ایک تجارتی قافلہ سے مڈ بھیڑ ہو گی مگر خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ تجارتی قافلہ سے نہیں بلکہ ملکہ کی مسلح فوج سے مسلمانوں کا مقابلہ ہو گا۔اُن سپاہیوں سے مقابلہ ہو گا جو آزمودہ کار ہیں اور ساز وسامان سے آراستہ و پیراستہ ہیں۔یہ چونکہ پہلی لڑائی تھی اس لئے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا دیکھو خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ ہمارا مکہ والوں سے مقابلہ ہو گا۔اس لئے میں تم سے مشورہ لینا چاہتا ہوں حالات ایسے ہیں کہ ہمیں بہت زیادہ خطرات کا اندیشہ ہے اس لئے ضروری ہے کہ آپ لوگوں سے مشورہ لے لیا جائے۔ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے رسول کریم کی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں مشورہ لینے کی یہ تحریک صحابہ کے ایمانوں کو ظاہر کرنے کے لئے ہی کی ہو۔بہر حال جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات پیش کی تو یکے بعد دیگرے کی مہاجرین اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لئے کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے کہا یا رَسُول اللہ ! آپ ہم سے کیا مشورہ پوچھتے ہیں؟ آپ ہمیں حکم دیجئے ہم لڑنے کے لئے تیار ہیں مگر جب ایک مہاجر اپنی رائے کا اظہار کر کے بیٹھ جاتا تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر فرماتے اے لوگو !