خطبات محمود (جلد 20) — Page 309
خطبات محمود ۳۰۹ سال ۱۹۳۹ء وہ تو جب بھی مصری صاحب کی کتاب کو پڑھے گا اس کی خلاف تقوی باتیں دیکھ کر اس کا مجھ ایمان ترقی کر جائے گا اور اگر کوئی ایسا شخص ہے جس کے دل میں ایمانی کمزوری پائی جاتی ہے تو ایسا شخص اگر گمراہ ہوتا ہے تو اس کی گمراہی میرے اختیار سے باہر ہے۔ایسے لوگوں کے متعلق تو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا ہے اگر وہ قرآن کو پڑھیں گے تو قرآن پڑھ کر بھی گمراہ ہی ہوں گے۔مصری صاحب کی کتاب کی تو حیثیت ہی کیا ہے۔پس وہ شخص جس کے اندر مرض ہو اس کے متعلق قرآن کریم کی یہ شہادت ہے کہ اس کی بیماری کو قرآن کریم بھی بڑھا دیتا ہے، کم نہیں کرتا۔اب اگر ایسے لوگ ہوں تو کیا میں انہیں کہہ سکتا ہوں کہ تم قرآن کریم نہ پڑھا کرو؟ اگر وہی بات درست ہے جو ہمارے بعض دوستوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہے تو انہیں چاہئے کہ جب قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ میرے پڑھنے سے بعض لوگ بجائے ہدایت پانے کے گمراہ ہو جاتے ہیں تو وہ لوگوں کو قرآن پڑھنے سے بھی روکا کریں۔مگر کیا وہ روک سکتے ہیں ؟ یا میں کسی کو حکم دے کر کہہ سکتا ہوں کہ تم قرآن نہ پڑھا کرو؟ چاہے کوئی کتنا ہی ایمان سے کورا ہو میں تو اُسے یہی کہوں گا کہ تم قرآن پڑھو کیونکہ اگر آج نہیں تو شاید کل قرآن تمہاری ہدایت کا موجب ہو جائے۔مگر قرآن بہر حال یہی کہتا ہے کہ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا۔قرآن پڑھنے سے بھی بجائے اس کے کہ بعض لوگوں کے ایمان تازہ ہوں ان کے دل میں خدا اور اس کے رسول اور اس کے مذہب سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔ایسے انسانوں کا کوئی علاج ہے ہی نہیں۔کی وہ مصری صاحب کی کتاب کیا وہ تو قرآن بھی پڑھیں گے تو گمراہ ہوں گے۔پس یہ خیال کر لینا کہ ہماری طرف سے لوگوں کو اس کتاب کے پڑھنے سے روکا جانا چاہئے بالکل غلط ہے۔ہم لوگوں کو اس کتاب کے پڑھنے سے ہرگز روک نہیں سکتے بلکہ میرے نزدیک جہاں تک دینی تحقیق کا تعلق ہو لوگوں کو اپنے عقیدہ اور اپنے مذہب کے خلاف لکھی ہوئی کتابوں کے پڑھنے سے روکنا سخت ظالمانہ فعل ہے۔ہر شخص کلی طور پر آزاد ہے اور وہ اس امر کا اختیار رکھتا ہے کہ دینی معاملات میں اس کی تحقیق اُسے جس نتیجہ پر پہنچاتی ہے اس پر پہنچ جائے۔میں جس چیز پر ناراض ہوتا ہوں وہ یہ ہے کہ منافقت دکھائی جائے اور دل میں کوئی عقیدہ رکھا جائے اور ظاہر کچھ کیا جائے۔ورنہ تحقیق تو میں اپنے لئے بھی ضروری سمجھتا ہوں اور دوسروں کے لئے بھی۔