خطبات محمود (جلد 20) — Page 285
خطبات محمود ۲۸۵ سال ۱۹۳۹ء میں یہ بھی اعلان کر دینا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ بہت سے دوستوں کے وعدے تھے کہ وہ جون یا جولائی تک اپنے وعدے پورے کر دیں گے اس کے لئے سب جماعتیں تحریک کریں کہ سب وعدے ۱۵ / اگست تک ادا ہو جائیں تا وہ ثواب میں چھ ماہ آگے بڑھ جائیں۔آخر جور قم دینی ہے وہ دینی ہی ہے اور جو وقت پر یا وقت سے پہلے ادا کر دے وہ ثواب کا زیادہ مستحق ہو جاتا ہے۔میں نے کئی دفعہ توجہ دلائی ہے کہ جو لوگ اس بات کا خیال کرتے ہیں کہ آخری وقت کی پر وعدہ پورا کر دیں گے وہ کبھی اپنے ارادہ میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔وہ بالعموم نا کام رہتے ہیں اور ان کے کاموں میں سستی پیدا ہو جاتی ہے جس طرح وہ لوگ جو اس انتظار میں رہتے ہیں کہ آخری وقت پر نماز ادا کر لیں گے۔بسا اوقات محروم رہ جاتے ہیں وہ انتظار ہی کرتے رہتے ہیں اور سورج چڑھ آتا ہے یا عصر کا وقت ہوتا ہے تو سورج غروب ہو جاتا ہے۔پس کوشش کرنی چ چاہئے کہ نیکی کو وقت پر ادا کیا جائے اور نیکی کے معاملہ میں تجھیل سے کام لیا جائے۔میں نے بار ہا وہ مثال دی ہے کہ جب ایک مخلص صحابی با وجود تیارکی جنگ کی طاقت رکھنے کے اس خیال سے تاخیر کرتے رہے کہ بعد میں تیاری کرلوں گا لیکن بعد میں ایسے مواقع پیش آگئے کہ نہ کر سکے۔نتیجہ یہ ہوا کہ جہاد کے ثواب سے الگ محروم رہے اور خدا اور رسول کی ناراضگی کے مورد علیحدہ ہوئے حتی کہ ایسے تین صحابہ کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے بائیکاٹ کیا گیا۔ان کے عزیز ترین دوستوں نے ان کا بائیکاٹ کر دیا بلکہ بعض کی بیویوں نے بھی بائیکاٹ کر دیا اور مسلمانوں کا ان سے بات چیت کرنا تو الگ رہا وہ ان کے متعلق کوئی اشارہ کرنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔اور یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے نیکی کرنے میں سُستی سے کام لیا ج حالانکہ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس سامان موجود تھا مگر صرف سستی سے کام لیا اور کہا کہ میں تیاری کرلوں گا۔سب سامان میرے پاس موجود ہے تو جب کوئی شخص نیکی میں تاخیر کرتا ہے تو اگر اس کے اندر کبر اور خود پسندی کا مادہ پیدا ہو جائے تو بعد میں اللہ تعالیٰ اسے ثواب سے بھی محروم کر دیتا ہے اور اگر یہ نہ بھی ہو تو بھی کم سے کم ثواب کے اتنے دن تو گئے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کے رستہ میں خرچ کرتے اور اُسے قرض دیتے ہیں خدا تعالیٰ ان کو بڑھا کر ہی واپس کرتا ہے۔سے یہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی شخص