خطبات محمود (جلد 20) — Page 200
خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء کرتے تھے کہ ایک نائی تھا جسے ایسی مرہم کا علم تھا جس سے بڑے بڑے خراب زخم اچھے ہوتی جاتے تھے۔لوگ دُور دُور سے اُس کے پاس علاج کرانے کے لئے آتے تھے۔اُس کا بیٹا اس کا نسخہ پوچھتا تو وہ جواب دیتا کہ اس کے جاننے والے دُنیا میں دو نہیں ہونے چاہئیں۔آخر وہ بوڑھا ہو گیا سخت بیمار ہوا تو اُس کے بیٹے نے کہا کہ اب تو بتا دیں وہ کہنے لگا کہ اچھا اگر تم سمجھتے ہو میں مرنے لگا ہوں تو بتا دیتا ہوں مگر پھر کہنے لگا کہ کیا پتہ میں اچھا ہی ہو جاؤں اور اس لئے پھر بتانے سے رُک گیا۔چند گھنٹوں بعد اُس کی جان نکل گئی اور اُس کا بیٹا اس فن سے محروم رہ ج گیا۔وہ آرام سے بیٹھا تھا اور مطمئن تھا کہ گھر میں فن موجود ہے لیکن وہ اس کے کسی کام نہ آسکا۔تو بخل ترقی کا نہیں بلکہ ذلت و رسوائی کا موجب ہوتا ہے بلکہ بعض دفعہ خاندانوں کی تباہی کا موجب ہو جاتا ہے تو ان پیشوں اور فنون کا سکھانا مضر نہیں بلکہ مفید ہے۔اس سے علم ترقی کرتا ج ہے اور میں چاہتا ہوں کہ یہ فنون خصوصاً مُردہ فنون کو ترقی دی جائے۔بچپن میں ہم بعض باتیں کی بڑی بوڑھیوں سے سنتے تھے اور خود چونکہ انگریزی طرز کی تعلیم حاصل کرتے تھے اس لئے سمجھتے تھے کہ یہ غلط باتیں ہیں۔مثلاً یہ کہ بنگال میں اتنی باریک ململ تیار ہوتی تھی کہ سارا تھان انگوٹھی کی میں سے گزر جاتا تھا۔اسی طرح اور بھی نہایت اعلیٰ کپڑے تیار ہوتے تھے۔ہم سمجھتے تھے کہ یہ باتیں ملکی غیرت کی وجہ سے ہیں مگر جب ادھور اعلم مکمل ہوا تو پتہ لگا کہ وہ سب باتیں صحیح تھیں۔میں نے ایک انگریز کی کتاب پڑھی ہے جس میں اُس نے گورنروں اور سرکاری افسروں کی کی رپورٹوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ بنگال میں بہت سی ایسی صنعتیں تھیں جنہیں انگریزوں نے مٹا دیا یہاں کا تیار کردہ سامان ولایت کے تاجر لے جاتے تھے اور انگلستان کے امراء کے تعیش کا سامان یہاں سے جاتا تھا بلکہ جب میں نے زیادہ تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ انگریزوں کے کپڑوں کے نام بھی ایشیائی ہیں مثلاً ململ کو انگریزی میں Muslin کہتے ہیں۔یہ لفظ دراصل موصلین ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اُس زمانہ میں ہندوستان کی تمام تجارت عرب کے رستہ ہوتی تھی اور کی عربوں کے ہاتھ میں تھی جیسے آجکل انگلستان کے ہاتھ میں ہے۔بعض چیزوں کے متعلق ہم پہلے سمجھتے تھے کہ وہ انگریز بناتے ہیں مگر جب جنگ شروع ہوئی اور وہ آنی بند ہوگئیں تو ہم حیران ہوتے تھے کہ یہ کیوں نہیں آتیں حالانکہ وہ انگلستان میں تیار ہوتی ہیں مگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ