خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 199

خطبات محمود ۱۹۹ سال ۱۹۳۹ء میں نے اُسے بلوا کر پاؤں پر مالش کرائی۔اس نے کہہ دیا تھا کہ پہلے یہاں ورم ہو جائے گا چنا نچہ ایسا ہی ہوا۔دو تین روز تو بہت ورم رہا پھر آرام آ گیا اور اب دس سال کے قریب ہو چکے ہیں وہاں درد نہیں ہوا حالانکہ پہلے میں ہمیشہ علاج کرتا رہتا تھا۔کئی مرہمیں لگا چکا تھا اور آیوڈین وغیرہ بھی لگاتا رہتا تھا۔تو یہ فن جسے ہڈی ٹھیک کرنا کہتے ہیں کئی لوگ جانتے ہیں۔یہ مجھے معلوم نہیں کہ طبی اصطلاح میں اسے کیا کہا جاتا ہے مگر بعض ان پڑھ لوگ اس کے ایسے ماہر ہوتے ہیں کہ ڈاکٹروں سے بھی بڑھ جاتے ہیں۔بعض نائیوں کے پاس ایسی مرہمیں ہیں کہ جن سے ڈاکٹروں کے لا علاج زخم اچھے ہو جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک دفعہ ایک شخص نے لکھا کہ میری لات پر ایک زخم ہے اور ڈاکٹر کہتے ہیں کہ لات کٹوانی پڑے گی۔حضور نے اُسے لکھا کہ بعض جراح بھی اپنے فن میں بڑے ماہر ہوتے ہیں اور خطر ناک زخم اچھے کر دیتے ہیں۔آپ کٹوانے سے پیشتر کسی جراح سے بھی علاج کرا کر دیکھ لیں۔بعد میں اس دوست نے لکھا کہ میں نے ایک نائی کو دکھایا تھا جو اس علاقہ میں جراحی کے لئے مشہور تھا۔اس نے علاج کیا اور اب میں اچھا ہوں اور ڈاکٹر بھی اس پر حیران ہیں تو ایسے فنون ابھی زندہ ہیں۔سید احمد نور صاحب کا بلی کے ناک پر زخم تھا اُنہوں نے کئی علاج کرائے ، لاہور کے میوہسپتال میں گئے ، ایکسرے کرا کر علاج کرایا مگر زخم اور بھی خراب ہوتا گیا۔آخر وہ پشاور گئے اور وہاں ایک نائی سے علاج کرایا۔اس نے صرف تین روز دوائی استعمال کرائی اور زخم اچھا ہو گیا۔تو اب بھی ایسے ماہرینِ فن موجود ہیں جن کو ایسے ایسے پیشے آتے ہیں کہ اگر انہیں زندہ رکھا جائے تو ان سے آگے کئی نئے پیشے جاری ہو سکتے ہیں لیکن ان کے جاننے والے چونکہ انہیں زندہ رکھنے کی کوشش نہیں کرتے اس لئے وہ ترقی نہیں کر رہے۔اگر ان کی طرف لوگوں کو توجہ ہو تو اُن سے آگے کئی فنون نکل سکتے ہیں۔مثلاً یہی ہڈیوں کا ٹھیک کرنا ہے پہلوان اور نائی اسے جانتے ہیں کی اور اس سے پرانی دردوں اور ٹیڑھی ہڈیوں کو درست کیا جا سکتا ہے۔اسے سیکھ کر پھیلانے کی کی کوشش کرنی چاہئے۔پرانے زمانہ میں لوگ ان پیشوں کے اظہار میں بہت بخل سے کام لیتے تھے اور کوئی کسی کو بتا تا نہ تھا اس لئے وہ مٹ گئے۔یورپ والے ایسا نہیں کرتے بلکہ اپنے فن عام کر دیتے ہیں اس سے وہ روپیہ بھی زیادہ کما سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سُنایا