خطبات محمود (جلد 20) — Page 195
خطبات محمود ۱۹۵ سال ۱۹۳۹ء مردوں اور دس سال سے زیادہ عمر کے بچوں کی تعلیم ہے اور وہ کوشش کریں کہ یکم اگست کو کوئی حج مر داور دس سال کی عمر کا بچہ آن پڑھ نہ رہے۔یکم اگست کو ہم قادیان کا عام امتحان لیں گے اور میں خود اس کی نگرانی کروں گا۔اگست کے پہلے ہفتہ میں باری باری سب کا امتحان ہوگا اور ان کو ثابت کرنا ہوگا کہ یہاں کوئی ان پڑھ باقی نہیں۔ممکن ہے بعض آدمی اس وقت میں پڑھنا نہ سیکھ سکیں اور ایسے لوگوں سے ہم درخواست کریں گے کہ وہ پندرہ ہیں روز یا مہینہ اپنا کام چھوڑ کر پڑھائی میں لگے رہیں اور پڑھائی کے مقابلہ میں یہ کوئی بڑی قربانی نہیں بلکہ بہت کی فائدہ بخش ہے۔قربانی تو دراصل پڑھانے والے کرتے ہیں پڑھنے والوں کا اپنا فائدہ ہے۔اس لئے جو لوگ سمجھیں کہ وہ اس عرصہ میں لکھنا پڑھنا نہ سیکھ سکیں گے اُن کو چاہئے کہ وہ کچھ وقت اس کے لئے وقف کر دیں اور اس عرصہ میں کوئی اور کام نہ کریں۔مجھے اس وجہ سے جلدی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ قادیان سے فارغ ہو کر ہم گاؤں کی طرف توجہ کریں۔وہاں کام زیادہ مشکل ہوگا کیونکہ وہاں پڑھنے والے زیادہ اور پڑھانے والے کم ہوں گے اور ضرورت ہوگی کہ ہم قادیان سے پڑھانے والے لے جا کر ارد گرد کے دیہات میں تعلیم عام کریں اور اگر ہم دوسال میں بھی اس امر میں کامیاب ہو جائیں کہ اس وقت تک جو لوگ احمدی ہو چکے ہوں اُن میں کوئی ان پڑھ نہ رہے۔تو یہ ایک ایسا شاندار کام ہو گا کہ جس کی مثال ہندوستان میں نہ مل سکے گی۔آجکل ہندوستان میں تعلیم عام کرنے کا چرچا ہورہا ہے اور کانگرس وغیرہ ادارے بھی اس کی طرف متوجہ ہیں۔پہلے ہماری جماعت تعلیمی لحاظ سے سب سے آگے تھی لیکن اب چونکہ دوسرے لوگوں میں بھی تعلیم کو عام کرنے پر بہت زور دیا جا رہا ہے اس لئے خطرہ ہے کہ وہ آگے نہ نکل جائیں اور وہ مقام جو سالہا سال سے اللہ تعالیٰ نے ہم کو عطا کر رکھا ہے وہ ہم سے چھینا نہ جائے۔میں چاہتا ہوں کہ ہم اس معاملہ میں بھی دوسروں سے آگے ہی رہیں۔کئی سال ہوئے میں نے تحقیقات کرائی تھی تو معلوم ہوا کہ قادیان میں پڑھنے کے قابل لڑکیاں سو فیصدی لکھ پڑھ سکتی ہیں۔مگر اب جو تحقیقات کرائی تو چونکہ یہاں باہر سے آ کر لوگ آباد ہوتے رہتے ہیں اس لئے اب کئی لڑکیاں ان پڑھ موجود ہیں۔پہلے مرد یہاں پچاسی فیصدی تعلیم یافتہ تھے 6 * یکم نومبر