خطبات محمود (جلد 20) — Page 18
خطبات محمود ۱۸ سال ۱۹۳۹ء اور فیصلہ کے ساتھ اس قانون اور شریعت کو رائج کریں جس کو اسلام نے ہم میں رائج کرنا چاہا ہے۔افراد کی کثرت اگر وہ مختلف ممالک میں پھیلے ہوں گو مالی لحاظ سے اور سیاسی لحاظ سے مفید ہو سکتی ہے مگر اجرائے قانون کے لحاظ سے مفید نہیں ہو سکتی۔اگر دس کروڑ افراد ساری دُنیا میں پھیلے ہوئے ہوں تو وہ اجرائے قانون کے لحاظ سے اتنے مفید نہیں ہو سکتے جتنے ایک کروڑ اگر ایک جگہ جمع ہوں۔پس قرآن کریم کی تعلیم کو عملی صورت میں کسی علاقے میں ظاہر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ کوئی وسیع علاقہ ایسا ہو جہاں جماعت احمد یہ کلی طور پر موجود ہو یا بہت بڑی اکثریت رکھتی ہو اور یہ غرض پوری نہیں ہو سکتی جب تک کہ منظم صورت میں تبلیغ نہ کی جائے۔مختلف علاقے لے لئے جائیں اور ان میں منظم طور پر پورے زور کے ساتھ تبلیغ کی جائے یہاں تک کہ وہ علاقہ ظاہر ہو جائے جسے اللہ تعالیٰ نے اس سعادت کے لئے مقدر فرمایا ہو۔مجھے افسوس ہے کہ ابھی ہماری جماعت نے اس ذمہ داری کو پورے طور پر نہیں سمجھا اور مجھے بہت ہی زیادہ افسوس ہے کہ اس بارہ میں سب سے زیادہ غفلت قادیان کے لوگوں کی ہے جہاں اور خدمات میں قادیان کی جماعت دوسروں سے بڑھی ہوئی ہے وہاں تبلیغ کا فریضہ ادا کرنے میں یہ سب سے پیچھے ہے۔امن نے ان کے دماغوں میں غلط اطمینان پیدا کر دیا ہے۔کی شائد کوئی کہے کہ یہاں امن کہاں ہے۔روز احرار کی طرف سے فتنے پیدا ہوتے رہتے ہیں لیکن کی فتنہ کا ہونا اور چیز ہے اور قلبی اطمینان اور ہے۔جہاں ایک احمدی دس مخالفوں میں گھرا ہو وہاں فتنہ اس کے دل میں یہ خلش پیدا کر سکتا ہے کہ شاید میں تباہ نہ ہو جاؤں۔مگر جہاں دس بھلے مانسوں میں ایک شرارت کرنے والا ہو وہاں نفس مطمئن ہوتا ہے اور گو تکلیف ہو مگر یہ گھبراہٹ نہیں ہوتی کہ میں تباہ ہو سکتا ہوں۔یہی حال قادیان اور باہر کے فتنوں کا ہے۔باہر کے فتنے خواہ کتنے تھوڑے ہوں چونکہ وہ اکثریت کی طرف سے ہوتے ہیں۔جماعت کے لوگوں کی میں ایک قسم کی بے اطمینانی ہوتی ہے مگر قادیان کے فتنے خواہ کتنے بڑے کیوں نہ ہوں جماعت کے دلوں میں یہ اطمینان ہوتا ہے کہ ہم یہاں طاقت اور تعداد کے لحاظ سے زیادہ ہیں۔یہ اطمینان کی صورت ایسی ہے جو نظر انداز نہیں کی جاسکتی اور مجھے افسوس ہے کہ اس نے قادیان کی