خطبات محمود (جلد 20) — Page 155
خطبات محمود ۱۵۵ سال ۱۹۳۹ء ہو سکتا ہے۔ایسا شخص اگر پولیس میں جائے گا تو یقیناً بہت ترقی کرے گا۔پھر ایک کھیل یہ ہوتا ہے ہے کہ پیچھے سے آ کر آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا جس کی آنکھیں اِس طرح بند کر دی جائیں اُس کا حق ہوتا ہے کہ پہچانے اور ہاتھ کو ہاتھ لگا کر پہچانے۔اس طرح ہاتھوں کے لمس سے پہچاننے کی مشق ہوتی ہے۔یہ کھیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی ثابت ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک صحابی بہت بدصورت اور کر یہ المنظر تھے ، قد چھوٹا تھا اور جسم پر بال بڑے بڑے کی تھے۔ایک دفعہ وہ بازار میں مزدوری کر رہے تھے پسینہ بہہ رہا تھا اور گرمی کی وجہ سے سخت گھبرائے ہوئے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ابھی لڑ پڑیں گے۔پیچھے سے رسول کریم صلی اللہ کی علیہ وسلم آئے۔آپ کو اُن کی حالت پر رحم آیا اور اُن کی دلجوئی کرنا چاہی اور اُن کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیئے جس کے معنے یہ تھے کہ بتاؤ کون ہے؟ انہوں نے ہاتھ پر ہاتھ پھیرا رسول کریم کی صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم بہت نرم تھا اس لئے وہ پہچان گئے اور مذاق کے لئے آپ کے جسمِ مُبارک کے ساتھ اپنا پسینہ والا جسم ملنے لگے اور کہا یا رسول اللہ ! میں نے پہچان لیا ہے لے یہ کھیل بھی درحقیقت اپنے اندر ایک عمدہ مشق رکھتی ہے۔بشرطیکہ بچوں کو عمدگی۔ނ کھلائی جائے اور کوشش کی جائے کہ پورا پورا فائدہ حاصل ہو۔یہ کھیلیں ایسی ہیں کہ ان سے اتنی مشق ہو جاتی ہے کہ انسان بڑے بڑے کمالات ظاہر کر سکتا ہے۔میں نے پہلے بھی کئی بار بتایا ج ہے کہ امریکہ کی ایک قوم ہے جسے ریڈ انڈین یعنی سُرخ ہند وستانی کہا جاتا ہے کیونکہ جب یورپ الے پہلے پہل امریکہ گئے تو اُن کا خیال تھا کہ ہندوستان یہی ہے بعد میں معلوم ہوا کہ ہندوستان اور ہے۔ان لوگوں کا رنگ سُرخی مائل ہوتا ہے اس لئے ان کو ریڈ انڈین کہتے ہیں۔اُنہوں نے کانوں کی مشق میں بہت کمال حاصل کیا ہوتا ہے۔لوگ پہلے زمانہ میں ان کو مزدوری کی پر جنگلوں میں راہنمائی کے لئے لے جاتے تھے یا جب چور یا ڈا کولوٹ مار کر کے بھاگتے تھے تو ان میں سے کسی کو لالچ دے کر ساتھ لے جاتے تھے اور جنگل میں چھپ جاتے تھے۔کہا جاتا ہے ہے کہ وہ لوگ زمین پر کان لگا کر دو تین میل کے فاصلہ پر سے بتا دیتے تھے کہ گھوڑے فلاں جہت سے دوڑے آ رہے ہیں اور یہ کوئی معجزہ نہیں نہ ہی وہ کوئی غیر معمولی انسان ہوتے ہیں بلکہ یہ صرف مشق کی بات ہے۔اس قوم نے کانوں کی مشق سے ایسے اصول دریافت کر لئے ہیں