خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 121

خطبات محمود ۱۲۱ سال ۱۹۳۹ء اور وہ جوان بھی ہیں اور بوڑھے بھی ، وہ پڑھے لکھے بھی ہیں اور ان پڑھ بھی۔ہندوستانیوں کی کے متعلق ایک نہایت ہی تلخ تجربہ ہوا ہے جو ہمیشہ میرے دل پر ایک پتھر کی طرح بوجھ ڈالے رکھتا ہے اور وہ یہ کہ ایک لمبے عرصہ کی غلامی کے بعد ہندوستانی عقل اور ذہانت کو بالکل کھو چکے ہیں۔وہ جب بھی کوئی کام کریں گے اُس کے اندر حماقت اور بیوقوفی ضرور ہوگی۔إِلَّا مَا شَاءَ اللہ۔چند لوگ اگر مستثنیٰ ہوں تو اور بات ہے لیکن ایسے لوگ بھی ایک فیصدی سے کی زیادہ ہیں۔اب سو میں سے ایک کی آبادی سو کا بوجھ کس طرح اُٹھا سکتی ہے۔اگر سو میں سے کچ ساٹھ ستر آدمی فرض شناس اور ذہین ہوں تو وہ بقیہ تمیں چالیس کا بوجھ اُٹھا سکتے ہیں لیکن جس مُلک کے سو آدمیوں میں سے ننانوے ذہانت سے عاری ہوں اور سو میں سے صرف ایک شخص ذہین ہو تو اُس کے متعلق جس قدر بھی مایوسی ہو کم ہے۔کوئی کام دے دیا جائے اُس میں ضرور کی کچھ نہ کچھ حماقت اور بیوقوفی دکھانا ہندوستانی شاید اپنے لئے ضروری سمجھتا ہے اور جب وہ بیوقوفی کرتا ہے اور اُسے سمجھایا جاتا ہے کہ وہ ایسی بیوقوفی نہ کیا کرے تو وہ اس سے اُلٹا نتیجہ نکالتا ہے اور جو اُ سے تعلیم دی جائے اُسے وہ ہمیشہ اپنے لئے گالی اور ہتک سمجھتا ہے اور جس طرح بچھوی نیش لگاتا ہے اُسی طرح وہ اس نصیحت کے بدلے دوسرے کو نیش لگانے کی کوشش کرتا ہے۔یہ ایک نہایت ہی تلخ بات ہے جو میرے تجربہ میں آئی ہے۔ابھی کل ہی کی بات ہے ایک عزیز نوجوان نے مجھ سے ذکر کیا کہ فوج میں جہاں کہیں مخلص احمدی دیکھے گئے ہیں وہ ہمیشہ دوسروں سے زیادہ ہوشیار ہوتے ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سچا ایمان اور سچا اخلاص ذہانت ضرور پیدا کر دیتا ہے کیونکہ عدم ذہانت دراصل توجہ کی کمی کا نام ہے اور کامل توجہ کا نام ہی ذہانت ہے۔جب انسان کسی امر کی طرف کامل توجہ کرتا ہے تو اُس کے چاروں کونے اُس کے سامنے آ جاتے ہیں مگر جب کبھی وہ پوری توجہ نہیں کرتا اُس کے کئی گوشے اُس کی نظروں سے پوشیدہ رہتے ہیں۔چار پانچ ہندوستانی اکٹھے سفر کر رہے ہوں اور اُن کے سامنے کوئی معاملہ پیش آ جائے تو وہ کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگ جائیں گے۔ایک کہے گا یوں کرنا چاہئے ، دوسرا کہے گا یوں نہیں دوں کرنا چاہئے۔اب وقت گزر رہا ہے کام خراب ہو رہا ہے مگر وہ بیوقوفی کی بحثیں کرتے رہیں گے۔کبھی ان کے دماغ میں یہ بات نہیں آئے گی کہ