خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 107

خطبات محمود ۱۰۷ سال ۱۹۳۹ء عادت نہ تھی اور جسے بالکل ہی کام کرنے کی عادت نہ ہو اُسے غصہ آئے گا۔جب وہ یہ محسوس کرے گا کہ اب اس کی خدمت کرنے والے نہیں رہیں گے۔اگر زمینداروں کو یہ عادت ہوتی کہ اپنے مُردہ جانوروں کو خود ہی باہر پھینک دیں تو شکر گڑھ کی تحصیل کے زمیندار ہماری مخالفت نہ کرتے۔تو میرا مطلب یہ ہے کہ ایک تو کام کرنے کی عادت پیدا کی جائے اور دوسرے کسی کام کو ذلیل نہ سمجھا جائے۔ہاں نو کر رکھ لینا اور بات ہے۔اگر کسی کا کام زیادہ ہو جسے وہ خود نہ کر سکتا ہو تو وہ کسی کو مددگار کے طور پر رکھ سکتا ہے۔بعض بڑے زمیندار بھی اپنے ساتھ ہالی رکھ لیتے ہیں لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ خود اپنے ہاتھ سے ہل نہیں چلاتے۔وہ خود بھی چلاتے ہیں اس لئے ان کو یہ فکر نہیں ہوتا کہ اگر ہالی نہ رہے تو وہ کیا کریں گے۔کیونکہ وہ خود بھی ہل چلانے میں عار نہیں سمجھتے لیکن جن کاموں کو لوگ اپنے لئے عار سمجھتے ہیں اُن کے کرنے والوں کی اصلاح کا اگر سوال پیدا ہو تو وہ ضرور ناراض ہوتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد یہ ہتک والا کام ہمیں خود کرنا پڑے گا اور اس لئے جب میں کہتا ہوں کہ ہاتھ سے کام کرنے کی کی عادت ڈالنی چاہئے تو اس میں دونوں باتیں شامل ہیں یعنی یہ بھی اس میں شامل ہے کہ کسی کی کام کو اپنے لئے عار نہ سمجھا جائے۔یوں تو سارے ہی لوگ ہاتھ سے کام کرتے ہیں میں جو لکھتا کی ہوں یہ بھی ہاتھ سے ہی کام ہے۔کیا ہاتھ سے نہیں تو زبان سے لکھا جاتا ہے؟ پس ہاتھ سے کام کرنے کو جب میں کہتا ہوں تو اُس کے معنے یہ ہیں کہ وہ عام کام جن کو دُنیا کی میں عام طور پر بُرا سمجھا جاتا ہے اُن کو بھی کرنے کی عادت ڈالی جائے۔مثلاً مٹی ڈھونا یا ٹوکری اُٹھانا ہے، کہی چلانا ہے۔اوسط طبقہ اور امیر طبقہ کے لوگ یہ کام اگر کبھی کبھی کریں تو یہ ہاتھ سے کام کرنا ہوگا ورنہ یوں تو سب ہی ہاتھ سے کام کرتے ہیں۔یہ کام ہمارے جیسے لوگوں کے لئے ہیں کیونکہ ہمیں ان کی عادت نہیں۔اگر ہم نے اس کی طرف توجہ نہ کی تو ہو سکتا ہے کہ ہماری عادتیں ایسی خراب ہو جائیں یا اگر ہماری نہ ہوں تو ہماری اولادوں کی عادتیں ایسی خراب ہو جائیں کہ وہ اُن کو بُرا سمجھنے لگیں اور پھر کوشش کریں کہ دُنیا میں ایسے لوگ باقی رہیں جو ایسے کام کیا کریں اور اسی کا نام غلامی ہے۔پس جائز کام کرنے کی عادت ہر شخص کو ہونی چاہئے تا کسی کام کے متعلق یہ خیال نہ ہو کہ یہ