خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 103

خطبات محمود ۱۰۳ سال ۱۹۳۹ء کرتے نہیں۔جو لوگ کام کرنا چاہتے ہیں مگر اُنہیں ملتا نہیں اس کی بنیاد بھی درحقیقت اسی مسئلہ پر ہے کہ کچھ لوگ دُنیا میں ایسے ہیں کہ جو کام کر سکتے ہیں انہیں مواقع میسر ہیں مگر وہ کرتے نہیں۔یہ لوگ آگے پھر دو گروہوں میں تقسیم محمدہ ہیں۔ایک وہ جن کے پاس اتنی دولت ہے کہ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ باقی دنیا کو ہماری خدمت کرنی چاہئے اور ہم گویا ایک ایسا وجود ہیں جو دُنیا سے خدمت لینے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔یہ گروہ فطرتی طور پر اس ہتھیار کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اِسے لوگوں سے زیادہ سے زیادہ خدمت لینے کے قابل کر دے اور وہ دولت ہے۔جب انسان یہ سمجھے کہ اس کی عزت اور امن و راحت کا انحصار دولت پر ہے تو وہ لازمی طور پر اپنی دولت کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔یہ ایک طبعی چیز ہے۔ہم اس اصول کو غلط کہہ سکتے ہیں کہ دُنیا میں دولت سے عزت اور راحت حاصل ہوتی ہے مگر یہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ جو شخص یہ سمجھتا ہے وہ اُسے بڑھانے میں غلطی کرتا ہے۔وہ اپنے نقطہ نگاہ سے بالکل صحیح کرتا ہے۔مومن یہ سمجھتا ہے کہ اس کی ساری عزت خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں ہے اور کیا ہم اسے روکیں گے کہ یہ تعلق نہ بڑھا، یا اگر وہ یہ کوشش کرے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ غیر طبعی فعل کرتا ہے۔جب اس کا یہ عقیدہ ہے کہ تمام عزتیں اور رحمتیں خدا تعالیٰ سے تعلق کے ساتھ وابستہ ہیں تو وہ قدرتی طور پر کوشش کرے گا کہ اس تعلق کو بڑھائے۔اسی طرح جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کی ساری عزت اور راحت و امن دولت میں ہے تو ضرور ہے کہ وہ دولت کو بڑھانے کی کوشش کرے گا اور اس کی اس کوشش پر ہم کوئی اعتراض نہیں کر سکتے کیونکہ یہ طبعی تقاضا ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کا یہ خیال غلط ہے کہ ساری عزت اور راحت دولت سے وابستہ ہے لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ عقیدہ رکھتے ہوئے دولت میں اضافہ کی کوشش کرنا غیر طبعی فعل ہے۔جس طرح ہم اس شخص کو جو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ عزت اور راحت تعلق باللہ میں ہے اس سے باز نہیں کی رکھ سکتے کہ وہ خدا تعالیٰ سے تعلق بڑھائے۔دُنیا میں ہزاروں لاکھوں انبیاء آئے ہیں جن کی زندگی کا دارو مدار اور انحصار ہی تعلق باللہ پر ہوتا ہے اور پھر ان کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کا سی تعلیم پر یقین ہوتا ہے۔لوگوں نے کس طرح کوششیں کیں کہ ان کو اس راستہ سے ہٹا دیں مگر کیا اُنہوں نے اس کو چھوڑا؟ اِن کو طرح طرح کے عذاب دیئے گئے ، دُکھ پہنچائے گئے۔: