خطبات محمود (جلد 20) — Page 97
خطبات محمود ۹۷ سال ۱۹۳۹ء میرے تین جوان بیٹے مارے گئے اور مجھے رونے کی اجازت نہیں دی جاتی یہ ایک نعرہ تھا جو اُس کی نے لگایا جس نے مکہ میں ایک شعلہ کا کام دیا۔اس کے بعد نہ کسی کو قانون کا خیال رہا، نہ قوم اور برادری سے اخراج کی دھمکی کا خیال رہا، معاملہ کے گھروں کے تمام دروازے کھل گئے اور کی چوکوں اور بازاروں میں عورتیں اور بچے پیٹنے لگ گئے۔یہ وہ موتیں تھیں جو۳۱۳ جانباز صحابہ کی شکلوں میں ظاہر ہوئیں۔جب ایک ملک الموت ساری دُنیا کی جان نکال لیتا ہے تو اگر انسان کی بھی ملک الموت کا نمائندہ بن جائے اور کہے کہ میں مرجاؤں گا مگر اپنے کام سے نہیں ہٹوں گا تو کی اُسے کون مار سکتا ہے۔اسلام ظلم کی اجازت نہیں دیتا، اسلام قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیتا مگر اسلام اس معاملہ میں کوئی استثنیٰ نہیں کرتا کہ اگر کوئی مسلمان ڈر کر یا غداری سے کام لے کر میدانِ جنگ سے بھاگ آئے تو سوائے جہنم کے اُس کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔وہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ پڑھنے والا ہو گا ، وہ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کہنے والا ہو گا ، وہ نمازیں پڑھنے والا ہوگا اور زکوۃ دینے والا ہوگا ، وہ سارے ہی احکام اسلام کی پابندی کرنے والا ہو گا مگر خدا اُسے فرمائے گا کہ تمہارا ٹھکانا دوزخ کے سوا اور کہیں نہیں کیونکہ تم قومی غداری کے مجرم ہو۔تو قومی غداری ایک نہایت ہی خطرناک جرم ہے۔صحابہ کو ہی دیکھ لو انہوں نے قومی دیانت کا کیسا شاندارنمونہ دکھایا۔ایسا اعلیٰ نمونہ کہ شدید ترین دشمن بھی ان کی اس خوبی کا اعتراف کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا پر غالب آئے اور یہی وہ چیز ہے جسے ہم اپنے اندر پیدا کر کے دُنیا کی پر غلبہ حاصل کر سکتے ہیں۔یقیناً یا درکھو جو قوم مرنے مارنے پر تلی ہوئی ہو اُ سے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔اگر اس پر کوئی حملہ بھی کرے تو مٹتی نہیں بلکہ اُبھرتی ہے اور گرتی نہیں بلکہ ترقی کرتی ہے۔تو تمہارا ایک کام یہ ہے کہ تم نوجوانوں میں قومی دیانت پیدا کرو۔اسی طرح ان میں تجارتی دیانت پیدا کر و یا زیادہ وسیع لفظ اگر استعمال کیا جائے تو اس کے لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ تم معاملاتی دیانت پیدا کرو اور اخلاقی دیانت کے پیدا کرنے سے بھی غافل نہ ہو۔اگر تم بار بار نو جوانوں کو یہ سبق دو، اگر تم دیکھتے رہو کہ تم میں سے کسی میں دیانت کا فقدان تو نہیں ہورہا اور اگر تم اپنے دوستوں ، اپنے ہمسایوں ، اپنے رشتہ داروں ، اپنے اہلِ محلہ اور