خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 93

خطبات محمود ۹۳ سال ۱۹۳۹ء کوٹ کر لے گیا ہوتا ہے کیونکہ وہ قلم چند پیسوں کا ہوتا ہے اور وہ کئی آنے بٹور لیتا ہے۔خود میرے ساتھ بھی ایک دفعہ ایسا ہی ہو ا مگر مجھے چونکہ بعض دوستوں نے یہ بات بتا دی تھی اس لئے کی میں نے فوراً کہہ دیا کہ مجھے ضرورت نہیں۔مگر وہ کہنے لگا دس نہ سہی نو ہی دے دیں، نو نہ سہی آٹھ ہی دے دیں، آٹھ نہ سہی سات ہی دے دیں، سات نہ سہی کچھ ہی دے دیں، اچھا پانچ روپے ہی دے دیں۔جب میں نے کہا میں کہہ چکا ہوں کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں تو کہنے لگا اچھا چار ہی دے دیجئے ، تین ہی دے دیجئے ، دوہی دے دیجئے ، چلئے ایک روپیہ ہی دے دیں۔پھر وہ اُس سے بھی نیچے اُترا اور کہنے لگا آٹھ آنے ہی دے دیں ، سات آنے ہی دے دیں، چلو چھ آنے ہی دے دیں۔مگر میں نے کہا جب میں نے کہہ دیا ہے کہ میں نے نہیں لینا تو میں چھ آنے بھی کیوں دوں؟ اسی طرح کشمیر میں میں نے دیکھا ہے وہاں لوگ مشک کا نافہ لاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے اندر ایک تولہ مشک ہے اور اس کی اصل قیمت بتیس روپے ہے مگر چونکہ ہمیں روپے کی سخت ضرورت ہے اس لئے ہم آپ کو چوبیس پچیس روپے میں نافہ دے سکتے ہیں۔پھر وہی نافہ جس کی وہ پچیس روپے قیمت بتاتے ہیں بعض دفعہ آٹھ آنہ میں بھی دے دیتے ہیں اور جب تم آٹھ آنہ میں مشک کا نافہ لے کر یہ سمجھتے ہو کہ دُنیا کے سب سے بڑے ماہر تاجر تم ہو کیونکہ تم نے ایک شخص سے مشک کا نافہ آٹھ آنے میں لے لیا تو اس وقت بھی تم دھو کا خورده ہوتے ہو کیونکہ جب اسے کھول کر دیکھا جاتا ہے تو اس میں سے کبوتر کے جمے ہوئے خون کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا اور تمہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ بڑے ماہر تم نہیں بلکہ بڑا ٹھگ وہی تھا جو تمہیں ٹوٹ کی کر لے گیا۔وہ نافہ کے باہر تھوڑی سی مُشک مل دیتے ہیں اور اندر کبوتر کا خون بھر دیتے ہیں۔کبوتر کے خون کی بعض دوائیوں سے بالکل مشک کی سی شکل ہو جاتی ہے اور ناواقف آدمی سمجھتا ہے کہ آج میں نے بڑا ستا سودا کیا۔میں نے آٹھ آنہ میں مشک کا نافہ خرید لیا۔حالانکہ اس ، میں صرف کبوتر کا خون ہوتا ہے اور کبوتر کے خون کی قیمت تو ایک پیسہ بھی نہیں ہوتی۔پھر قومی دیانت کو لے لو۔یا تو یہ حال ہے کہ کم سے کم آٹھ کروڑ مسلمان ہندوستان میں موجود ہیں اور چند سو انگریز اس ملک پر قبضہ کر لیتے ہیں اور یا یہ حال نظر آتا ہے کہ بدر کے میدان میں عرب کا ایک ہزار نہایت تجربہ کا رسپاہی ملکہ کی طرف سے لڑنے آتا ہے اُن کے