خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 79

خطبات محمود ۷۹ سال ۱۹۳۹ء یہ لوگ ایسے ہی ہوں جن کا تعلق مختلف مساجد سے ہو ) ان کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ جو باقاعدہ کی مؤذن ہیں ان کی اذانوں کی اصلاح کریں اور دوسرے لوگ بھی جو باقاعدہ مؤذن نہیں اگر کی اُن کی کوئی غلطی دیکھیں تو انہیں ٹوک دیا کریں تا کہ انہیں اپنی اصلاح کا خیال پیدا ہو۔مثلاً ابھی جو اذان ہوئی ہے اس میں موذن نے حتی کے بعد اتنا لمبا الف استعمال کیا ہے جو نہ تو جائز ہے اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت ہوتی ہے مگر عام پنجابی لہجہ یہی طریق اختیار کرتا ہے اور پنجابی مؤذن کی نہیں بلکہ حیا کہتا ہے۔وہ سمجھتا ہے شائد اس طرح آخر میں الف زائد کر دینے اور اسے لمبا کر دینے سے آواز اونچی ہو جاتی ہے حالانکہ عرب لوگ بھی اذان دیتے ہیں اور وہ بغیر یا کہنے کے کام چلا لیتے ہیں۔بایں ہمہ اُن کی آواز میں اتنی بلند ہوتی ہیں اور اُن کی اذان میں اپنی ذات میں ایسی مسرت انگیز آواز کی حامل ہوتی ہے کہ وہ ایک شیر میں راگ کی شکل کی اختیار کر لیتی ہے۔مکہ مکرمہ میں چونکہ مؤذن مقرر کئے جاتے ہیں اور میں نے دیکھا ہے اذان کی دیتے وقت اُن کی آواز میں اتنی دلکش اور لطیف ہوتی ہیں کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان اس کی آواز کے ساتھ ہی زمین سے اُٹھ کر آسمان کی طرف جا رہا ہے تو حقیقت یہ ہے کہ اس لفظ کی خوبصورتی الف چھوڑ دینے میں ہے اس کے استعمال کرنے میں نہیں۔اور جب الف اس لفظ میں ہے ہی نہیں تو اس کے استعمال کرنے کے کوئی معنی ہی نہیں ہو سکتے۔پس اگر وہ آئندہ کے لئے حی کے بعد الف استعمال نہ کریں تو میں سمجھتا ہوں ان کی اذان پہلے سے بہت زیادہ خوبصورت ہو جائے۔اسی طرح اور بھی بہت سے نقائص ہیں جو ہمارے پنجاب میں بوجہ عربی زبان کی ناواقفیت کے اصرار سے چلتے چلے جاتے ہیں اور میں خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہے ہوں کہ وہ اس نقص کی اصلاح کی کوشش کریں۔اس کے بعد میں آج کے مضمون کو لیتا ہوں۔گزشتہ خطبہ میں میں نے خدام الاحمدیہ کے مقاصد میں سے تین ضروری مقاصد کو لیا تھا اور بتایا تھا کہ ان کی طرف خصوصیت سے ان ایام میں انہیں توجہ کرنی چاہئے اور وہ یہ تھے۔اوّل۔انہیں اپنے ممبروں کے اندر اور دوسری جماعت کے اندر بھی قومی رُوح پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور جماعتی کاموں کے لئے فخر بانی کا مادہ پیدا کرنا چاہئے۔یہ پہلا مقصد -