خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 64

خطبات محمود ۶۴ سال ۱۹۳۹ء بوڑھا تیز چلے تا دونوں اکٹھے چل سکیں تو تم سمجھ سکتے ہو کہ دونوں میں سے کس کی اُمید جائز سمجھی جائے گی۔یقیناً بوڑھے کی کیونکہ بوڑھا اگر کوشش بھی کرے تو بھی تیز نہیں چل سکتا لیکن نوجوان آہستہ چل سکتا ہے اور اگر چاہے تو اپنی رفتار کو سست کر کے بوڑھے کو ساتھ لے جاسکتا ہے اور اس لئے دونوں میں سے وہی مطالبہ صحیح ہو سکتا ہے جو ممکن ہے۔نوجوان اگر یہ مطالبہ کرے کہ بوڑھا تیز چل کر اس کے ساتھ ملے تو اس کا یہ مطالبہ بے وقوفی کا مطالبہ سمجھا جائے گا کیونکہ تیز چلنا بوڑھے کے لئے ممکن ہی نہیں۔ہاں وہ خود تیز چلنے کی طاقت رکھتے ہوئے بھی آہستہ چل سکتا ہے لیکن جب یہ ایسا کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اپنی آزادی پر قید لگا تا ہے۔خدا تعالیٰ نے اسے طاقت دی ہے کہ چار پانچ میں ایک گھنٹہ میں طے کر جائے مگر چونکہ اس کا ساتھی بوڑھا ہے اور پون میل سے زیادہ نہیں چل سکتا اس لئے یہ بھی اپنی رفتار اتنی ہی کر لیتا ہے اور اتنا ہی چلتا ہے۔اس کا اتنی کم رفتار سے چلنا اس کی اپنی کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ اپنے بوڑھے اور کمزور ساتھی کو بھی ساتھ لے جاسکے اور یہی حقیقی تعاون ہے کہ انسان کو اختیار اور طاقت حاصل ہو، رتبہ حاصل ہو ، روپیہ موجود ہو مگر وہ اُن کے متعلق اپنے اختیارات پر خود قیدیں لگا دے۔روپیہ خرچ کرنے کے لئے موجود ہو مگر کم خرچ کرے یا اُسے دوسروں کے لئے خرچ کرنے لگے۔موجود ہونے کے باوجود کم خرچ کرنے کی مثال روزہ ہے اور دوسروں کی خاطر خرچ کرنے کی مثال صدقہ ہے۔روزہ میں کم خرچ کیا جاتا ہے۔ایک امیر آدمی بھی سب کچھ موجود ہونے کے باوجود اپنی شکل غریبوں کی سی بناتا ہے۔دراصل سحری کی غرض یہی ہے کہ انسان جو بھی کھاتا ہے چوری چھپے کھاتا ہے اور جب لوگوں کے سامنے آتا ہے تو ایسی حالت میں کہ اس کے چہرہ سے فاقہ کشی اور غربت کے آثار ہویدا ہوتے ہیں اور اس طرح وہ جسے کھانے کو ملتا ہے اور وہ بھی جسے نہیں ملتا سب یکساں نظر آتے ہیں۔جو کچھ کھانا ہوتا ہے وہ سحری کے وقت ہی کھا لیا جاتا ہے اور ایک دوسرے کے سامنے آنے کے وقت سب کی شکلیں غربت ظاہر کر رہی ہوتی ہیں۔حج کی بھی یہی صورت ہے سب کے لئے حکم ہے کہ ایک چادر لپیٹ لو اور اس طرح لباس میں سب تکلفات ، کوٹ، صدری، قمیص، بنیان وغیرہ اُڑ گئیں۔پھر اس چادر کی سلائی کو بھی روک دیا کیونکہ سب فیشن دراصل سلائی سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔صرف ایک