خطبات محمود (جلد 20) — Page 6
خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء کوشش کی جائے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے قریبی عرصہ میں ہی نمایاں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔اس وقت تک تو چونکہ معتین طور پر کام نہیں ہوا اس لئے دوستوں نے بھی بے تو جہی کی ہے مگر میں اُمید کرتا ہوں کہ اب یہ کام معتین صورت میں شروع کیا جا رہا ہے۔قادیان کے دوست بھی اور باہر کے دوست بھی اس کی اہمیت کا احساس کریں گے اور جلد از جلد اپنے وعدے بھجوائیں گے۔یہ ضروری نہیں کہ ہر شخص اپنے وعدہ کو پورا کر سکے۔بعض ایسے بھی ہوں گے جو اسے ٹھیک طرح پورا نہ کر سکیں گے مگر بعض ایسے بھی ہوں گے جو وعدہ سے زیادہ احمدی بناسکیں گے اور عین کی ہے کہ بعض ایسے دوست جنہوں نے ایک یا دو کا وعدہ کیا ہو اللہ تعالیٰ ان کو دس ہیں احمدی بنانے کی توفیق دے دے۔یہ خدا تعالیٰ کی دین ہے۔جیسی کسی کی نیت ہو ویسا ہی اللہ تعالیٰ اس پر فضل کرتا ہے۔اگر کوئی شخص زیادہ کوشش کرے تو اللہ تعالیٰ اسے کامیابی بھی زیادہ عطا کرتا ہے۔تبلیغ کے لئے نفسیات کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔بہت سے لوگ تبلیغ کرتے وقت دوسرے کے خیالات کا احساس نہیں رکھتے اور اندھا دھند باتیں کرتے جاتے ہیں۔ان کی مثال اُس نابینا شخص کی ہوتی ہے جو لٹھ لے کر دشمن پر حملہ کرنے کے لئے سیدھا چلتا جاتا ہے۔کمرہ کے اندر جو لوگ ہوتے ہیں وہ ایک کو نہ میں کھڑے ہوتے ہیں اور نا بینا اپنے سامنے لٹھ گھماتا رہتا ہے۔اسی طرح یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔بعض اوقات وفات مسیح کا مسئلہ ہی رکتے جاتے ہیں۔حالانکہ اگلا شخص اس کا پہلے ہی قائل ہوتا ہے اور کبھی یہ ختم نبوت کے دلائل دیتے چلے جاتے ہیں۔حالانکہ اگلا خدا تعالیٰ کی ہستی کا بھی قائل نہیں ہوتا یہ اس بحث میں پڑے رہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبی آ سکتا حالانکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی نبی نہیں مانتا۔پس ہمیشہ مخاطب کے دماغ کو پڑھ کر بات کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔مخاطب کے حالات کا مطالعہ کرنے اور اس کی بات کو سمجھنے کے بغیر تبلیغ کرنا لغو بات ہے۔غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے باقی کوئی نبی ہو، خلیفہ ہو، ولی ہو یا کوئی مومن، متقی ہو ہر ایک کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے کے حالات پہلے معلوم کرے اور پھر تبلیغ کرے۔بسا اوقات لوگ دلی عقا ئد ڈر کی جہ سے بیان ہی نہیں کرتے مثلاً مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہونے والا حتی الوسع کبھی یہ بات نہیں ہے۔