خطبات محمود (جلد 20) — Page 596
خطبات محمود ۵۹۶ سال ۱۹۳۹ء ہر شخص کی ماہوار آمد کی ساتھ ہی لسٹ دے دیتے۔اس طرح یہ بات تاریخی طور پر محفوظ ہو جاتی کی کہ فلاں شخص گو یہ بظاہر اس میعار پر پورا نہیں اُتر ا لیکن حقیقت میں اس کی قربانی اس معیار پر پورا اُترنے والوں سے زیادہ ہے مگر اس تجویز میں بھی مشکلات ہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کی دوسو روپیہ ماہوار آمد ہے اور پچاس آدمیوں کا بوجھ اُس کے سر پر ہے جن کا گزارہ اسی روپیہ میں سے ہوتا ہے اور ایک اور شخص ہے جس کی گو ۲۵ روپیہ تنخواہ ہے مگر وہ اکیلا ہے اس طرح ممکن ہے دو سو روپیہ والا کم قربانی کرے اور ۲۵ روپے والا زیادہ حالانکہ دوسو روپے والا کم قربانی پر مجبور ہوگا اور اس کی تھوڑی قر بانی بھی زیادہ اہمیت رکھنے والی ہو گی۔پس یہ تجویز بھی کوئی ایسی مکمل نہیں۔بہر حال میں اس پر مزید غور کر کے اس بارہ میں کوئی فیصلہ کروں گا اور جس حد تک ان کی دلجوئی ہو سکے گی ان کی دلجوئی کرنے کی کوشش کروں گا۔* آخر میں میں زمیندار دوستوں کو بھی تحریک جدید کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔پچھلے دس پندرہ سال زمینداروں کے گھر خاک اُڑتی رہتی تھی اور شہری آرام میں تھے مگر اب شہری تکلیف میں ہیں اور زمیندار آرام میں ہیں۔جنگ کی وجہ سے روز بروز اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔گجا تو یہ حال تھا کہ سو روپیہ من گندم بکا کرتی تھی اور گجا اب ہوتے ہوتے چار روپیہ من کے قریب پہنچ گئی ہے اور ابھی چار روپیہ من سے بھی زیادہ تیز ہو گی۔اسی طرح گنے کی قیمت دگنی ہو گئی ہے، کپاس کا بھاؤ بھی دو گنے کے قریب بڑھ گیا ہے۔پس وہ زمیندار جو تر ستے تھے اور کہتے تھے کاش ہمارے پاس روپیہ ہوتا اور ہم تحریک جدید میں حصہ لے سکتے ، اب ان کو بھی خدا تعالیٰ نے موقع دیا ہے انہیں چاہئے کہ وہ ان فراخی کے ایام سے فائدہ اُٹھائیں اور ثواب کا یہ موقع رائیگاں نہ جانے دیں بلکہ اگر ہو سکے تو پچھلی کمی کو بھی پورا کرنے کی کوشش کریں۔اگر جنگ نے طول پکڑا اور جیسا کہ حالات سے ظاہر ہو رہا ہے یہ جنگ لمبی چلے گی تو لازماً قیمتیں اس سے بھی زیادہ بڑھ ج خطبہ کو درست کرتے وقت میں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ عام قاعدہ اس بارہ میں کوئی نہیں بنایا جاسکا۔ہاں جن دوستوں کو یہ مشکل پیش آتی ہو وہ دفتر میں اطلاع کر دیں۔ہر ایک کے معاملہ پر الگ الگ غور کر کے جہاں تک ان کی جائز مشکلات میں ان کوملحوظ رکھا جائے گا اور ان کا حق دلانے کی پوری کوشش کی جائے گی۔انشاء اللہ۔