خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 574

خطبات محمود ۵۷۴ سال ۱۹۳۹ء لئے نہ رہائش کا انتظام ہو اور نہ کوئی پوچھنے والا ہو تو وہ یہی کہیں گے کہ یہ کتنے بے حیا لوگ ہیں۔پہلے تو شور کر رہے تھے کہ آؤ آؤ اور اب آئے ہیں تو کہتے ہیں کہ تم سے کوئی جان پہچان ہی نہیں۔جب لوگ زیادہ آئیں گے تو ان کے کھانے پینے کے لئے بھی زیادہ اشیاء درکار ہوں گی ، مکان بھی زیادہ درکار ہوں گے اور خدمت کرنے والے بھی زیادہ چاہئیں۔میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ منتظمین کا یہ خیال کہ اس موقع پر بہت زیادہ رؤسا آئیں گے اور سینکڑوں غیر احمدی امراء شامل ہوں گے صحیح نہیں۔تمہارے دلوں میں بیشک خلافت اور خلافت جوبلی کی کی عزت ہو گی مگر دوسروں کے نزدیک اس کی کیا عزت ہو سکتی ہے۔پندرہ ہیں غیر احمدی رؤسا تو ممکن ہے رونق دیکھنے کے لئے آجائیں یا ممکن ہے کچھ احمدیوں کے دوست آجائیں مگر یہ کہ ہزاروں دوڑے چلے آئیں گے غلط ہے۔ان کے نزدیک خلافت جو بلی کی نہ کوئی قیمت ہے اور کی نہ اہمیت۔ایاز قدر خود بشناس۔آج تمہاری کیا حیثیت ہے کہ بڑے بڑے لوگ دوڑے چلے آئیں گے۔آج اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو بے شک تمہاری قدر ہے مگر بڑے لوگوں کے نزدیک کوئی نہیں۔آج تو بعض جگہ ایک نمبردار بھی تمہارے پاس سے گزرتا ہے تو ناک چڑھا کر کہہ دیتا ہے کہ یہ بے حیثیت لوگ ہیں مگر تم سمجھتے ہو کہ تمہاری بڑی اہمیت ہے۔آج صرف خدا تعالیٰ کے گھر میں تمہاری اہمیت ہے اس لئے تم اسی کی طرف توجہ کرو جس کے گھر میں تمہاری عزت ہے۔اسی پر نگاہ رکھو۔دنیا داروں کے نزدیک ابھی تمہاری عزت کوئی نہیں۔بیشک ایک دن آئے گا جب ان کے نزدیک بھی عزت ہوگی اور اس وقت یہ لوگ بھی کہیں گے کہ ہم تو ہمیشہ سے ہی اس طرف مائل تھے مگر ا بھی وہ دن نہیں آیا۔اس کے لئے ابھی بہت زیادہ قر بانیوں کی ضرورت ہے جب وہ کر لو گے تو وہ دن آئے گا اور اس وقت بادشاہ بھی تمہاری طرف مائل ہوں گے اور کہیں گے کہ ہم تو بچپن سے ہی اس طرف مائل تھے محض اتفاق ہے کہ اب تک اس طرف نہ آ سکے۔گواب تو معمولی نمبر دار بھی ناک چڑھا کر گزر جاتا ہے اور کہتا ہے معلوم نہیں کہ یہ کون لوگ ہیں اور کی کون نہیں۔ہر زمانہ کی حیثیت علیحدہ ہوا کرتی ہے۔ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں مخالفین نے مسجد کا دروازہ بند کر دیا اور آپ کئی دفعہ گھر میں پردہ کرا کر لوگوں کو مسجد میں لاتے اور کئی لوگ اوپر سے ہو کر آتے۔سال یا چھ ماہ تک یہ راستہ بند رہا۔آخر