خطبات محمود (جلد 20) — Page 562
خطبات محمود ۵۶۲ سال ۱۹۳۹ء بُرا بھلا نہ کہے تو ہم اسے اپنی آنکھوں پر بٹھانے کے لئے تیار ہیں بلکہ اُنہوں نے کہا ہے کہ اگر تیرے بھتیجے کا یہ مقصد ہے کہ کسی نہایت ہی خوبصورت لڑکی کے ساتھ اس کی شادی کر دی جائے گی تو ہم اپنی تمام بیٹیاں اس کے سامنے پیش کرنے کے لئے تیار ہیں۔ان میں سے جس کے ساتھ اس کا جی چاہے شادی کرے اور اگر اس کو دولت کا شوق ہے تو ہم تمام اپنی آدھی آدھی دولت اس کو دینے کے لئے تیار ہیں اور اگر اسے یہ شوق ہے کہ وہ عرب کا حاکم اور سردار بن جائے تو کی ہم اسے اپنا حاکم اور سردار بنانے کے لئے تیار ہیں مگر وہ کچھ تو رعایت کر دے اور ہمارے بچوں کو اتنابُر ا تو نہ کہے جتنا بُر اوہ انہیں آجکل کہتا پھرتا ہے۔ڈ نیوی طور پر یہ کتنا بڑا لا لچ تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا۔لوگ خوبصورت لڑکیوں سے شادی کے لئے کوشش کرتے ہیں اور مکہ والوں نے خود یہ کہہ دیا کہ ہم اپنی تمام بیٹیاں اُس کے سامنے پیش کرنے کے لئے تیار ہیں وہ جس کے ساتھ جی چاہے شادی کر لے۔لوگ مال اور دولت کے حصول کے لئے کوششیں کرتے ہیں اور مکہ والوں نے یہ خود ہی کہہ دیا کی کہ ہم اپنی آدھی آدھی دولت اُس کو دینے کے لئے تیار ہیں۔اسی طرح لوگ حکومت کے لئے کوششیں کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ لوگوں میں اُن کا اعزاز قائم ہو جائے اور یہ پیشکش بھی مکہ والوں نے خود ہی کر دی اور کہہ دیا کہ ہم اُسے اپنا سردار اور حاکم ماننے کے لئے تیار ہیں۔غرض اُنہوں نے کہا کہ ہم تمام اعزاز اُسے دینے کے لئے تیار ہیں مگر اُسے بھی تو چاہئے کہ ہمارے ساتھ کچھ نرمی کرے اور ہمارے بتوں کو بُرا بھلا کہنا چھوڑ دے۔پھر ابو طالب نے کہا کہ اے میرے بھتیجے اب مجھ میں بھی طاقت نہیں رہی کہ میں تجھے دشمن کے حملوں سے بچا سکوں۔اب تو یہ مجھے بھی دھمکی دینے لگ گئے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر تو نے اپنے بھتیجے کو منع نہ کیا تو ہم تجھے بھی ریاست سے الگ کر دیں گے اور شہر سے نکل جانے پر مجبور کریں گے۔ابو طالب کے لئے تو مکہ کی سرداری ایک بہت بڑی بادشاہت تھی۔جب اُنہوں نے اس واقعہ کا ذکر کیا اور اس مقام پر پہنچے کہ انہوں نے مجھے یہ دھمکی دی ہے کہ اگر میں نے تجھے منع نہ کیا تو وہ مجھے ریاست سے الگ کر دیں گے تو وہ رو پڑے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اُن کی اس حالت کو دیکھ کر صدمہ محسوس کیا اور چونکہ آپ پر ابو طالب کے بہت بڑے احسانات تھے اس لئے آپ کی