خطبات محمود (جلد 20) — Page 559
خطبات محمود ۵۵۹ سال ۱۹۳۹ء بتا ؤ اب بھی تم باز آتے ہو یا نہیں ؟ مگر وہ جواب دیتا ہے کہ میرا عقیدہ یہی ہے کہ لَا اِلهَ إِلَّا الله مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله۔اس پر وہ پھر اُسے پیٹتے ہیں اور پیٹتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ اُسے اپنے زعم میں قتل کر دیتے ہیں اور عین اُس وقت جبکہ وہ اُس کی لاش کو پھینک دیتے ہیں اُس کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے ہو جاتے ہیں ، اُس کا سر لڑھک جاتا ہے ، اُس کی گردن لٹک جاتی ہے اس کے ہونٹ آخری بار ہلتے ہیں اور ان سے ایک آواز آتی ہے۔نہایت دھیمی آواز اتنی دھیمی کہ وہ ایک فٹ کے فاصلہ سے بھی نہیں سنی جا سکتی۔تب ایک شخص آگے بڑھتا اور اُس کے ہونٹوں پر اپنے کان رکھ دیتا ہے ہے تا کہ وہ معلوم کرے کہ اُس نے کیا کہا۔جب وہ اپنے کان اُس کے ہونٹوں کے قریب لے جاتا ہے تو اُسے ہلکی سی یہ آواز آتی ہے کہ لَا اِلهَ إِلَّا اللہ اور اُس کے ساتھ ہی اُس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر جاتی ہے۔اب ایک طرف میدانِ جنگ میں دشمنوں پر فتح پانے والے اسلامی لشکر نے نعرہ تکبیر بلند کیا تھا اور دوسری طرف اس جان توڑنے والے نے لَا اِلهَ إِلَّا الله کہا مگر یقیناً ان دونوں آوازوں میں سے وہ کمزور اور نا تو ان آواز جو ایک فٹ کے فاصلہ سے بھی سنائی نہیں دیتی تھی وہ زیادہ شاندار ہوگی۔وہ سچے مومنوں کے دلوں میں زیادہ اُمنگیں اور حو صلے پیدا کرنے والی ہوگی بہ نسبت اس نعرہ کے جو میدان جنگ میں فاتح لشکر نے بلند کیا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگوں کو دیکھ لو اور ان کی مکہ والی حالت کو بھی دیکھو اور پھر غور کرو کہ کونسی چیز ہے جو ہمارے دل میں گدگدی پیدا کرتی ہے۔وہ جنگیں ہمارے دلوں میں اس قدر گد گدی پیدا نہیں کرتیں جن میں مسلمان فوجیں کافی تعداد میں ہوا کرتی تھیں اور کفار کا پوری قوت سے مقابلہ کرتی تھیں بلکہ جو چیز محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی شان کا نقشہ ہماری آنکھوں کے سامنے پیش کر دیتی ہے وہ وہی ہے جب کہ آپ اکیلے اور تن تنہا مکہ کی گلیوں میں توحید کا وعظ کرتے اور قریش مکہ آپ کو ہر رنگ میں دُکھ اور اذیت پہنچاتے یہاں تک کہ جب اُنہوں نے دیکھا کہ وہ کسی طرح محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو تو حید کے وعظ سے نہیں روک سکے تو مج وہ آپ کو مارنے کے درپے ہو گئے اور اس فیصلہ کے بعد وہ آپ کے چچا کے پاس جو آپ کی امداد کا آخری دنیوی ذریعہ تھے گئے اور کہا اے ابو طالب ! تیرے اس بھتیجے نے ہم کو بڑا ستایا ج