خطبات محمود (جلد 20) — Page 545
خطبات محمود ۵۴۵ سال ۱۹۳۹ء سے کہنا کہ جب تک ہم زندہ تھے خدا تعالیٰ کی امانت یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو ہمارے سپر د تھی اُس کی اپنی جانوں سے حفاظت کرتے رہے۔اب ہم دُنیا سے جاتے ہیں اور یہ امانت اب تمہارے سپرد ہے اور میری آخری وصیت تم کو یہ ہے کہ رسول کریم کے وجود کی قدر کرنا اور اپنی جانوں کو قربان کر کے آپ کی حفاظت کرنا۔دیکھو اس وقت اس صحابی کو یہ فکر نہیں ہوئی کہ میری اولا د اور رشتہ داروں کو روٹی دے کر زندہ کون رکھے گا بلکہ یہ فکر تھی کہ وہ اس موت سے نہ بھا گئیں جو ہم نے قبول کی ہے۔اب بتاؤ کونسا ایسا ملک اور کونسی ایسی قوم ہے جو کوئی ایک مثال بھی ایسی پیش کر سکے۔یہ تین واقعات ہی ایسے ہیں کہ دُنیا کی تاریخ کے تمام صفحات بھی ان کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں۔حالانکہ دُنیا کی تاریخ ہزاروں سالوں ، ہزاروں قوموں اور ہزاروں لڑائیوں اور کروڑوں فوجیوں پر پھیلی ہوئی ہے اور صحابہ کی چھوٹی سی جماعت میں ایسی ہزاروں مثالیں ہیں۔دراصل ایسی قربانیاں ہی ہیں جو قوموں کو بڑھاتی ہیں۔غرض اس جنگ نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ دُنیا فانی ہے۔صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہی غیر فانی ہے اور اسی سے تعلق پیدا کرنا انسان کے لئے نفع مند ہوسکتا ہے باقی دنیوی جاہ و جلال اور جائداد و اموال کی کوئی حیثیت نہیں۔دیکھ لو یہودیوں کے پاس کتنی جائداد میں تھیں مگر ہٹلر نے حکم دیا اور سب کی سب ضبط ہو گئیں۔پس اس جنگ نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی کی راہ میں اور قر بانیاں کریں اگر دنیاوی امن کے لئے ایسی عظیم الشان قربانیاں کی جاتی ہیں جیسا کی کہ ان جنگوں میں محبانِ وطن کر رہے ہیں تو خدا تعالیٰ کی خاطر قر بانیوں کا معیار کس قدر بلند ہونا چاہئے اور جو یہ قربانیاں نہیں کرتے۔وہ کس طرح دعوی کر سکتے ہیں کہ انہیں خدا تعالیٰ سے محبت ہے۔پس یہ حالات قربانی میں کمی کے بجائے اضافہ کا موجب ہونے چاہئیں۔یا د رکھو کہ یہ تحریک خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اس لئے وہ اسے ضرور ترقی دے گا اور اس کی راہ میں جو روکیں ہوں گی ان کو بھی دُور کر دے گا اور اگر زمین سے اس کے سامان پیدا نہ ہوں گے تو آسمان سے خدا تعالیٰ اس کو برکت دے گا اور مبارک ہیں وہ جو بڑھ بڑھ کر اس تحریک میں حصہ لیتے ہیں کیونکہ ان کا نام ادب اور احترام سے اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا اور خدا تعالیٰ کے دربار میں یہ لوگ خاص عزت کا مقام پائیں کے کیونکہ انہوں نے خود