خطبات محمود (جلد 20) — Page 511
خطبات محمود ۵۱۱ سال ۱۹۳۹ء کے لئے مجھے تین روپے ماہوار ملا کرتے تھے اس میں سے بھی بچا کر کتابیں خریدتا رہتا تھا۔اب تو میں نے دیکھا ہے اچھی اچھی نوکریوں والے بھی نہیں خرید تے مگر مجھے اُس وقت بھی یہ شوق تھا اس رقم سے جو بھی گزارہ کے لئے ملتی تھی اپنی علمی ترقی کے لئے اور مطالعہ کے لئے کتابیں بھی خرید تا رہتا تھا اور کافی ذخیرہ میں نے جمع کر لیا تھا۔تو میں بتا رہا تھا کہ تو کل کا صحیح مقام یہی ہے۔بعض لوگ اب مجھ پر اعتراض کرتے ہیں کہ اتنی بیویاں ہیں، اتنے بچے ہیں مگر میں پوچھتا ہوں کہ ان بیوی بچوں کے لئے کیا میں نے کسی سے کچھ مانگا ہے؟ میں تو یہی سمجھتا ؟ ہوں کہ اگر خدا تعالیٰ نے نہ دیا تو فاقے کر لیں گے مگر کسی سے مانگیں گے نہیں۔میرا اصول ہمیشہ یہی رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ہی لینا ہے اور جو وہ بھیج دے اُسی پر گزارہ کرنا ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ وہ ایسی ایسی راہوں سے دیتا ہے کہ انسان گمان بھی نہیں کر سکتا۔مجھے آٹھ دس غیر احمدیوں سے اس قدر امدا د ملی ہے کہ شاید سب احمدیوں نے جو ہدایہ دئیے ہوں ان کے برا بر ہوگی اور وہ ایسے لوگ ہیں کہ کبھی اُنہوں نے اپنے نام کے اظہار کی بھی خواہش نہیں کی۔حج بعض کو اللہ تعالیٰ نے خوابوں کے ذریعہ تحریک کی بعض کو دوسرے ذرائع سے، بعض دنیوی کاموں میں اتنار و پیل گیا کہ جس کا وہم بھی نہ تھا مگر اصول میرا یہی رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ دیتا ہے کہ تو دے اور اگر نہ دے تو انسان صبر سے کام لے اور بندوں کی طرف نگاہ نہ اُٹھائے اور میں سمجھتا ہوں یہی تو کل ہے۔یہ بھی نہیں کہ اگر اللہ تعالی کوئی اچھی چیز بھیج دے تو انسان اُسے پھینک دے۔یہ تو کل نہیں گستاخی ہے اور نہ ہی یہ تو کل ہے کہ انسان خود اپنے آپ کو وقف کرے اور پھر ضرورت پڑے تو مانگے۔یہ مانگنا خواہ خلیفہ سے بلکہ خواہ نبی سے ہی کیوں نہ ہو بلکہ خواہ خاتم النبیین سے کیوں نہ ہو تو کل کے خلاف ہے۔تو کل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ دے تو لے نہیں تو جو ہے اُسی پر قناعت کرے اور سمجھے کہ اگر اللہ تعالی مارنا ہی چاہتا ہے تو مار دے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک بزرگ کا قصہ سنایا کرتے تھے کہ وہ کسی گوشہ میں بیٹھے وعظ و نصیحت کرتے رہتے تھے اور اللہ تعالیٰ اُن کو وہیں روزی پہنچا دیتا تھا۔دور شہر سے باہر جگہ تھی جہاں وہ رہتے تھے ایک دفعہ کئی دن گزر گئے اور کھانے کو کچھ نہ آیا۔یہ شاید اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان تھا۔اُنہوں نے کہا کہ اب شہر میں چل کر کسی دوست سے کچھ مانگنا چاہئے چنانچہ وہ گئے اور ایک دوست سے کہا