خطبات محمود (جلد 20) — Page 50
خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء ماتحت ہو تو بہت بڑا تغیر پیدا کر سکتا ہے۔بے شک ہم لوگ جو کام کے عادی نہیں مزدوروں جتنا کام نہیں کر سکتے لیکن اگر ہم مزدوروں کے کام کا دسواں حصہ بھی کریں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ سال میں اڑھائی ہزار مزدوروں نے کام کیا اور اڑھائی ہزار مزدوروں کا کام بھی کوئی معمولی کام نہیں ہوتا۔اگر چھ آنے ہر مزدور کی یومیہ اجرت فرض کی جائے تو قریباً ایک ہزار روپے کا کام ہم سال میں صرف چھ دن دے کر کر سکتے ہیں۔پس خدام الاحمدیہ کو اپنے ہاتھ سے کام کرنے کا کام صرف اپنے تک ہی محدود نہیں رکھنا چاہئے بلکہ بعض کام جن میں ساری جماعت کی شمولیت مُفید نتائج پیدا کرسکتی ہو ان میں ساری جماعت کو شمولیت کا موقع دینا چاہئے۔پس قادیان کے خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ سال میں چھ دن ایسے مقرر کریں جن کی میں یہاں کی تمام جماعت کو کام کرنے کی دعوت دی جائے بلکہ مناسب یہی ہو گا کہ وہ ابتدا میں چھ دن ہی رکھیں اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں دو مہینہ میں ایک دن کام کر لینا کوئی بڑی بات کی نہیں۔آخری جمعرات ہو تو اُس دن عام اعلان کر دیا جائے کہ آٹھ دس سال کے بچوں سے لے کر اُن بوڑھوں تک جو چل پھر سکتے اور کام کاج کر سکتے ہیں، فلاں جگہ جمع ہو جا ئیں ان سے فلاں کام لیا جائے گا۔پھر پہلے سے پروگرام بنایا ہوا ہو کہ فلاں سڑک پر کام کرنا ہے، فلاں جگہ سے مٹی لینی ہے، اتنی بھرتی ڈالنی ہے، اِس اِس ہدایت کو مد نظر رکھنا ہے اور جماعت کے انجینئر اس تمام کام کے نگران ہوں اور ان کا منظور کردہ نقشہ لوگوں کے سامنے ہو اور اس کے مطابق سب کو کام کرنے کی ہدایت دی جائے۔میں سمجھتا ہوں اگر پہلے سے ایک سکیم مرتب کر لی جائے تو آسانی سے بہت بڑا کام ہو سکتا ہے۔غرض سکیم اور نقشے پہلے تیار کر لیں اور اُس دن جس طرح فوج پریڈ کرتی ہے اسی طرح ہر شخص حکم ملنے پر اپنے اپنے حلقہ کے ماتحت پریڈ پر آ جائے۔دیکھو قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومن اور کافر اپنے اپنے لیڈروں کے پیچھے آئیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اُس دن ہر نبی اپنا اپنا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہوگا اور ہر نبی کے ساتھ اُس کی اُمت ہوگی۔یہ نہیں ہو گا کہ قیامت کے دن شور پڑا ہوا ہو اور کوئی کدھر جا رہا ہو اور کوئی کدھر بلکہ ہر شخص اپنے اپنے لیڈر کے جھنڈے کے نیچے ہو گا۔