خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 487 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 487

خطبات محمود ۴۸۷ سال ۱۹۳۹ء جس کا ایمان بہت زیادہ مضبوط تھا وہ کہنے لگا بھائی تم نے بات تو ٹھیک کہی مگر اس کا ذمہ داری کون ہے؟ اور کس نے ہمارے باپ دادا سے کہا تھا کہ وہ محمد رسول اللہ کا انکار کر دیں ؟ انہوں نے چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید مخالفت کی تھی اس لئے آج ہماری یہ حالت ہے کہ ہم مجلس میں پیچھے ہٹا دیئے گئے مگر وہ جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی تھی ، جنہوں نے اپنی جانیں اور اپنے اموال آپ کی راہ میں قربان کر دیئے اُن میں سے گو بہت سے مارے گئے مگر اب جو باقی ہیں ان کا حق ہے کہ ان کی عزت کی جائے اور ان کو ہم سے زیادہ ادب کے مقام پر بٹھایا جائے۔اُنہوں نے کہا یہ بات تو تسلیم کی مگر کیا اب اس ذلت کو مٹانے کا اور کوئی ذریعہ نہیں اور کیا کوئی ایسی قربانی نہیں جو اس گناہ کا کفارہ ہو سکے؟ اس پر اسی نے کہا کہ چلو حضرت عمرؓ کے پاس چلیں اور انہی سے اس کا علاج دریافت کریں۔چنانچہ وہ پھر آپ کے مکان پر گئے اور دستک دی۔مجلس اس وقت خالی تھی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اندر بلایا اور کہا کس طرح آنا ہوا۔اُنہوں نے کہا آج جو کچھ سلوک ہمارے ساتھ ہوا ہے وہ آپ جانتے ہی ہی ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں معذور تھا کیونکہ اُس وقت جو لوگ میرے پاس آئے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور میرے لئے ضروری تھا کہ میں اُن کی عزت و تکریم کرتا۔اُنہوں نے کہا ہم اس بات کو خوب سمجھتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا نے کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر کے اپنے لئے بہت بڑی ذلّت مول لے لی مگر کیا اب کوئی کی ایسا طریق نہیں جس سے یہ ذلت کا داغ ہماری پیشانیوں سے مٹ سکے اور کیا ہمارے باپ دادا سے یہ جو غلطی ہوئی اُس کا کوئی علاج نہیں ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ چونکہ اس خاندان سے تعلق رکھتے تھے جس کے ذمہ اہل عرب کے نسبوں کو یا د رکھنا ہوتا تھا اور وہ جانتے تھے کہ ان نو جوانوں وروہ کے باپ دادا کو کتنی بڑی عزت اور وجاہت حاصل تھی۔یہاں تک کہ اسلام کی دشمنی کے زمانہ میں بھی وہ اگر کسی مسلمان کو پناہ دے دیتے تھے تو کسی شخص کو یہ جرأت نہیں ہوتی تھی کہ وہ اُس کی مسلمان کو دُکھ پہنچا سکے۔اس لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں کے سامنے ایک ایک کر کے یہ واقعات آئے اور اُس کا تصور کر کے اُن پر رقت طاری ہو گئی اور بات کرنا آپ کے لئے مشکل ہو گیا اور غلبہ رقت میں صرف آپ نے اپنا ہاتھ اُٹھایا اور شمال کی طرف جہاں شام میں