خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 459

خطبات محمود ۴۵۹ سال ۱۹۳۹ء راستہ پر چلا جارہا تھا کہ بڑے زور کا بگولا آیا جس نے مجھے اُٹھا کر آپ کے باغ میں پھینک دیا۔اب بتائیے اس میں میرا کوئی قصور ہے؟ اُس نے کہا نہیں اس میں تو کوئی نہیں بلکہ اس میں تو مجھے آپ کے ساتھ ہمدردی ہے۔اس نے کہا اچھا تو جب میں باغ میں گرا تو پھر بگولا آیا جس سے میں اُڑنے لگا اور جان بچانے کے لئے اِدھر اُدھر ہاتھ مارنے لگا۔اس میں بتائیے میرا کیا قصور ہے؟ اُس نے کہا نہیں کوئی قصور نہیں جان بچانا آپ کا فرض تھا۔اس نے کہا کہ میں جب ہاتھ مارتا تھا تو انگور گرتے تھے۔اس میں بھلا میرا کیا قصور ہے؟ مالک نے کہا کہ اس میں بھی تمہارا کوئی قصور نہیں۔پھر اُس نے کہا کہ نیچے ٹو کر پڑا تھا اور انگور اُس میں گرتے جاتے تھے۔بتائیے اس میں میرا کیا قصور؟ اس نے کہا اس میں بھی کوئی قصور نہیں۔وہ کہنے لگا پھر آپ ناراض کیوں ہوتے ہیں؟ مالک نے کہا کہ باقی بات تو سب درست ہے تم مجھ کو اس کا جواب دو کہ اس کے بعد ٹو کرا تمہارے سر پر رکھ کر کس نے کہا کہ تم یہ گھر لے جاؤ۔اس نے جواب دیا کہ میں بھی دل میں یہی سوچتا چلا آ رہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور میں کیوں ٹو کرا سر پر رکھ کر گھر لے جا رہا ہوں؟ یہی حال ان دکانداروں کا ہے جو اشیاء مہنگی ہوتی ہیں ان کی قیمت زیادتی کے مطابق بڑھانی تو جائز بات ہے لیکن بلا وجہ ان اشیاء کی قیمت کیوں بڑھا دی گئی کہ جن کی قیمت نہ کارخانوں نے بڑھائی ، نہ ان پر کوئی محصول لگائے گئے یا اگر خرید کی قیمت میں فرق تو ۱/۱۰ کاکی پڑا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ایسی اشیاء کی قیمت ڈیوڑھی، دُگنی کر دی گئی۔جب ان لوگوں سے وجہ کی پوچھی جاتی ہے تو سوائے اس ٹو کرے والے کے جواب کے ان کے پاس اور کوئی جواب نہیں ہوتا۔ا غرض یہ بالکل ناجائز طریق ہے مگر یہ تو ایک ضمنی بات تھی جو میں نے بیان کر دی اور اس کی یہ مناسبت تھی کہ رمضان کے مہینے میں کھانے پینے کی چیزوں کے لوگ زیادہ حاجتمند ہوتے ہیں اس لئے فروخت کرتے وقت احتیاط کی جائے۔میرا اصل مضمون یہ تھا کہ رمضان کے دنوں میں کھانے پینے کی دکانوں کو بند رکھا جائے۔روٹی کی دکانیں کھلی رہیں مگر اس سے صرف مسافر اور بیمار کو روٹی دی جائے تندرست مقیم نہ کھائے۔اس امر کے بعد میں اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اس سال تحریک جدید کے سلسلہ میں