خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 458

خطبات محمود ۴۵۸ سال ۱۹۳۹ء قیمتیں بڑھاتے۔میں اس دلیل کا تو قائل نہیں جو بعض لوگوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہے کہ یہ چیزیں ستی خریدی ہوئی ہیں اس لئے سستی بیچی جائیں۔یہ بے وقوفی کی بات ہے جنگ کے دوران میں دکاندار جو اشیاء مہنگی خریدیں گے کیا یہ دلیل دینے والے بعد میں جبکہ قیمتیں گر جائیں گی اسی نرخ پر ان سے وہ چیزیں خریدنے کو تیار ہوں گے؟ پس یہ بات عقل کے خلاف ہے اور کوئی تجارت اس اصول پر نہیں چل سکتی۔یہ بات تو تمہارے لئے آسان ہے کہ اگر کوئی چیز جس کی قیمت سات آنہ تھی ، آٹھ آنہ کی ہو جائے تو تم اسے خرید لو۔گو دکاندار کی خرید کی قیمت چھ آ نہ ہی کیوں نہ ہو لیکن جو چیز کسی دکاندار نے چھ آنہ میں خریدی ہوئی ہے اور سات آنہ میں اسے بیچتا ہو وہ اگر ستی ہو جائے اور اس کی قیمت مثلاً پانچ آ نہ ہو جائے تو تم اس کی چھ آنہ میں خریدی ہوئی چیز کو سات آنہ میں لینے کے لئے کبھی تیار نہ ہو گے اور بازار کے اس وقت کے ریٹ یعنی پانچ آنہ پر فروخت کرنے پر اُسے مجبور کرو گے۔پس یہ مطالبہ بالکل غلط ہے کہ جو چیز ستی خریدی گئی ہے ستی فروخت کی جائے۔کیونکہ جو چیز دکاندار نے مہنگی خریدی ہے اُس کے کی سستا ہو جانے پر اس وجہ سے تم اسے مہنگا نہیں خریدو گے کہ دکاندار نے وہ مہنگی خریدی تھی۔ان حالات میں دکاندار کو مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے جو چیز سستی خریدی ہے اُسے سستا فروخت کرے۔پس یہ دلیل تو نا درست ہے مگر یہ بھی جائز نہیں کہ مارکیٹ کی قیمت سے ناجائز طور پر بڑھا کر کوئی قیمتیں وصول کرنے لگے۔مثلاً ایک چیز انگلستان سے پانچ آنہ میں چلتی تھی بمبئی میں چھ آنہ میں پہنچتی تھی اور لاہور سات آنہ میں ملتی تھی۔کوئی شخص جنگ کی وجہ سے یکدم اسے تو آ نہ ! میں بیچنے لگے۔بغیر اس کے کہ کارخانہ نے اس کی قیمت بڑھائی ہو یا جہاز والوں نے کرایہ زیادہ کیا ہو تو یہ نا جائز ہوگا۔جب بنانے والا اسی قیمت میں بناتا ہے، بھیجنے والا اسی قیمت بھی بھیج رہا ہے ، پہنچانے والا اسی قیمت میں پہنچاتا ہے تو تمہارے ساتھ آنہ سے کو آنہ کس طرح ہو گئے ؟ اس کی آخر کوئی وجہ تو ہونی چاہئے۔یہ تو بالکل ایسا ہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سُنا یا کی کرتے تھے کہ کوئی شخص کسی کے باغ سے انگوروں کا بھرا ہوا ٹوکرا اُٹھا کر لے جا رہا تھا۔رستہ میں باغ کا مالک مل گیا اُس نے کہا کہ میرے انگور اُٹھا کر کہاں لے جارہے ہو؟ اُس نے جواب دیا کہ آپ ناراض نہ ہوں پہلے میری بات سُن لیں۔اس نے کہا اچھا سنا ؤ تو کہنے لگا کہ میں تو