خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 441

خطبات محمود ۴۴۱ سال ۱۹۳۹ء اور کہا کھائیے۔وہ مجھ سے کسی احمدی کے پاس ایک معاملہ میں سفارش کرانا چاہتے تھے مگر اس سے پہلے وہ پیر صاحب یہ فتویٰ بھی شائع کر چکے تھے کہ احمدیوں سے ملنا جلنا اور گفتگو کرنا بالکل حرام ہے اور اگر کوئی ان سے ملے جلے یا گفتگو کرے یا ان کے جلسہ میں شریک ہو تو اس کی بیوی پر طلاق واقع ہو جاتی ہے۔چنانچہ مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ جب سیالکوٹ تشریف لے گئے اور وہاں ایک جلسہ ہو ا جس میں آپ نے تقریر فرمائی تو راستہ میں بڑے بڑے مولوی ان پیر صاحب کے فتویٰ کے اشتہارات اُٹھائے لوگوں کو کہہ رہے تھے کہ جو مرزا صاحب کے لیکچر میں جائے گا اُس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی، جو احمدیوں سے ملے گا اُس کی بیوی کو بھی طلاق ہو جائے گی ، جو ان سے مصافحہ کرے گا اُس کی بیوی کو بھی طلاق ہو جائے گی اور جو ان کے سلام کا جواب دے گا اُس کی بیوی کو بھی طلاق ہو جائے گی۔مجھے یاد ہے جلسہ میں جب لوگ جاتے تو باہر بڑے بڑے مولوی کھڑے ہو کر لوگوں کو روکتے کہ اندرمت جانا ورنہ تمہارا نکاح فسخ ہو جائے گا۔اس پر کئی جوش میں آ جاتے اور کہتے نکاح کا کیا ہے نکاح تو سوار و پیہ دے کر پھر پڑھا لیا جائے گا۔مرزا صاحب نے روز روز نہیں آنا ہے۔اس لئے ہم ان کا لیکچر ضرورسُنیں گے اور یہ کہہ کر وہ جلسہ میں شامل ہو جاتے تو انہی پیر صاحب نے جن کا یہ فتویٰ تھا کہ احمدیوں سے ملنے اور باتیں کرنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے باوجود یہ معلوم ہونے کے کہ میں بانی سلسلہ احمدیہ کا لڑکا ہوں رومال بچھا کر میرے سامنے میوہ رکھ دیا اور کہا کہ کھائیے۔مجھے اس فتوی کی وجہ سے ان سے یوں بھی نفرت تھی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کا سامان بھی پیدا کیا ہوا تھا اور وہ یہ کہ اس روز مجھے کھانسی اور نزلہ کی شکایت تھی۔میوہ میں کشمش بھی تھی جس کا کھانا نزلہ کی حالت میں نزلہ کو اور زیادہ بڑھا دیتا ہے اس لئے میں نے معذرت کی اور کہا کہ آپ مجھے معاف رکھیں مجھے نزلہ کی شکایت ہے۔میں میوہ نہیں کھا سکتا۔پیر صاحب فرمانے لگے کہ نہیں کچھ نہیں ہوتا آپ کھائیں تو سہی۔میں نے پھر انکار کیا کہ مجھے اس حالت میں ذراسی بد پر ہیزی سے بھی بہت تکلیف ہو جاتی ہے۔اُس پر وہ کہنے لگے جی یہ تو باتیں ہی ہیں کرنا تو سب اللہ نے ہوتا ہے اور وہی ہوتا ہے جو اللہ کرتا ہے۔میں نے کہا پیر صاحب آپ نے یہ بات بہت بعد میں بتائی اگر آپ لاہور میں ہی بتا دیتے تو آپ اور میں دونوں ایک نقصان سے بچ جاتے۔