خطبات محمود (جلد 20) — Page 391
خطبات محمود ۳۹۱ سال ۱۹۳۹ء کر دیں گے بلکہ میں ان سے یہ بھی منوا آیا ہوں کہ وہ لاہور کی شاہی مسجد میں آکر سب کے سامنے تو بہ کریں گے اور واقع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا بھی اقرار کر لیا تھا۔ان کا منشا یہ تھا کہ تو بہ ایسی جگہ ہو کہ سب کو معلوم ہو جائے اور یہ فتنہ جواُ ٹھا ہوا ہے دب جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا جہاں آپ کہیں گے وہیں میں تو بہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔آپ پہلے دس آیتیں تو لے آئیں۔غرض انہوں نے جاتے ہی کہا کہ میں مرزا صاحب سے سب کچھ منوا کر آیا ہوں۔آپ اس جھگڑے کو چھوڑئیے اور مجھے فوراً دس آیتیں لکھ کر دیجئے تا کہ میں مرزا صاحب کو تو بہ کرانے کے لئے یہاں لا سکوں۔اس وقت چونکہ مولوی صاحب سخت جوش کی حالت میں اور بڑے فخر سے کہہ رہے تھے کہ میں نے نورالدین کو یوں پٹھنیاں دیں، میں نے اُسے گردن سے اس طرح پکڑا۔اُنہوں نے جب یہ بات سنی تو ان کے تن بدن میں کی آگ لگ گئی اور غصہ سے کہنے لگے تجھ جاہل کو کس نے کہا تھا کہ تو مرزا صاحب کے پاس کی جائے۔میں دو مہینے سے جھگڑ جھگڑ کر نورالدین کو حدیث کی طرف لایا تھا تو پھر بحث کو قرآن کی کی طرف لے گیا۔وہ آدمی تھے نیک انہیں یہ فقرہ کھا ہی گیا۔وہ سادگی سے یہ سمجھتے تھے کہ قرآن سے حیات مسیح ثابت ہے اور وہ اسی امید میں خیالی پلاؤ پکا رہے تھے اور خیال کرتے تھے کہ جہاں سارے ہندوستان کے مولوی ناکام رہے ہیں وہاں میں ضرور کامیاب ہو جاؤں گا اور کی مرزا صاحب سے تو بہ کراؤں گا۔پس انہوں نے جو نہی یہ فقرہ سُنا کہ میں دو مہینے بحث کر کر کے نورالدین کو حدیث کی طرف لایا تھا تو پھر بحث کو قرآن کی طرف لے گیا تو وہ تھوڑی دیر تو حیرت کی اور استعجاب سے خاموش بیٹھے رہے پھر اُٹھے اور مولوی صاحب سے مخاطب ہو کر کہا کہ اچھا مولوی صاحب جدھر قرآن اُدھر ہی ہم اور یہ کہہ کے مجلس سے چلے گئے۔اب انہوں نے نہ کوئی دلیل سنی ، نہ کوئی نشان دیکھا ، نہ کوئی مباحثہ سُنا۔صرف انہوں نے یہ فقرہ سُنا اور سمجھ گئے کہ قرآن مرزا صاحب کی تائید میں ہے اور انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ جدھر قرآن ہے اُدھر ہی مجھے ہونا چاہئے۔چنانچہ اُنہوں نے قادیان آ کر حضرت مسیح موعود کی علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کر لی۔تو حق یہ ہے کہ جو شخص اس مقام پر کھڑا ہو جاتا ہے کہ بجائے اس کے کہ اپنے جذبات غیرت کا پاس کرے وہ یہ فیصلہ کر لے کہ جدھر میرا خدا ہے اُدھر ہی میں کی