خطبات محمود (جلد 20) — Page 36
خطبات محمود ۳۶ سال ۱۹۳۹ء لوگوں میں کسی خرابی کے پیدا ہونے کی اُن پر بھی ذمہ داری نہیں لیکن اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد اُن کا کوئی مثیل کھڑا ہو جاتا جو لوگوں کی اصلاح کی طرف متوجہ ہو جاتا یا حضرت عیسی علیہ السلام کا کام اُن کے حواریوں کی اولادوں کی طرف منتقل ہو جاتا تو یقیناً حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے بعد بھی اس قدر خرابی رونما نہ ہوتی جس قدر کہ خرابی رونما ہوئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر اسلام میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی تو اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں سے آپ کو ایسی اولادیں عطا کی تھیں جنہوں نے اپنے باپ دادا کے کام کو سنبھال لیا اور وہ سلسلہ چلتا چلا گیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ کیا اور یہی وعدہ ہے جو درحقیقت آپ کی سب سے بڑی فضیلت ہے کہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكر ورنا له لحفظون سے کہ ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم ہمیشہ اس کی حفاظت کریں گے اور تمہاری اولادوں میں سے ہی ایسے لوگ کھڑے کر دیں چی گے جو اسلام کے گرتے ہوئے جھنڈے کو سنبھال لیں گے اور اسلام کو ترقی اور عروج کی منزلوں تک لے جائیں گے۔یہی وعدہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسرے انبیاء پر عظمت اور بڑائی ثابت کرتا ہے۔انبیاء سابقین کے کاموں کے تسلسل کے قیام کا کوئی ذریعہ نہیں تھا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ صرف خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا کہ قریب کے زمانہ میں تیری جماعت دین کی خدمت کرے گی بلکہ یہ بھی وعدہ کیا کہ اگر آئندہ بھی کوئی خرابی پیدا ہو گئی تو تیری روحانی اولاد میں سے ہم کسی شخص کو کھڑا کر دیں گے اور وہ پھر تیری عظمت کو دُنیا میں قائم کر دے گا۔ہے چنانچہ اس زمانہ میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں نے بالکل بھلا دیا ، جب تعلیم اسلام سے وہ کوسوں دور جا پڑے، جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کہلانے کی والے اپنے آبائی مذہب کی تحقیر و تذلیل پر اتر آئے تو مسلمانوں میں سے ہی ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی بیٹا قرار دے کر کھڑا کر دیا اور اُس نے پھر اسلام کی کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ قائم کر دیا۔اب اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسلام کی حفاظت کا یہ سامان نہ ہوتا اور اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت نہ ہوتی تو آج اسلام کی کونسی چیز باقی رہ گئی تھی ؟ مگر اس کامل تباہی میں سے زندگی کے آثار کس طرح پیدا ہوئے؟