خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 348

خطبات محمود ۳۴۸ سال ۱۹۳۹ء یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ تم میری خاطر قر بانیوں سے اپنے او پر موت وارد کر لو۔پھر دیکھو میں تمہیں کتنی بڑی عزت اور عظمت دیتا ہوں، کتنی چھوٹی چھوٹی قر بانیاں ہیں جو تم کرتے ہو مگر ان قر بانیوں کی وجہ سے آج بھی تمام دنیا میں تمہاری عزت ہے۔جہاں چلے جاؤ یہی ذکر سُنو گے کہ اس جماعت میں بڑی طاقت ہے۔تمہاری تنخواہیں تمہیں چار چار مہینے نہیں ملتیں لیکن اگر تم میری ڈاک دیکھو تو ہر مہینہ میں ایک دو ایسے خط ضرور آ جاتے ہیں کہ ہم مسلمان ہونا چاہتے ہیں لیکن ہماری راہ میں بہت سی مشکلات حائل ہیں۔ہم پر اتنا قرض ہے اور اس قدر روپیہ کی شدید ضرورت کی ہے اگر آپ اتنے روپیہ کا انتظام کر دیں تو ہم مسلمان ہونے کے لئے تیار ہیں۔لوگوں کو یہ یقین ہی نہیں آتا کہ ہمارے پاس روپیہ نہیں۔وہ یہی سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس بڑا روپیہ ہے تو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا پر ہماری جماعت کا رُعب قائم کر دیا ہے۔ہم اپنی غلطیوں کی وجہ سے بعض کی دفعہ اس رُعب کو مٹا بھی دیتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے احیاء کا سلسلہ برابر شروع ہے اور کی دُنیا کے کناروں تک احمدیت کی شہرت پھیلتی جاتی ہے۔کوئی بڑی سے بڑی قوم ایسی نہیں جسے ہندوستان سے باہر لوگ جانتے ہوں مگر تمہیں ضرور جانتے ہیں اور آہستہ آہستہ دنیا کی تاریخ اور کی اس کے لٹریچر میں تمہارا نام آنا شروع ہو گیا ہے۔چنانچہ کئی کتا بیں غیر ممالک میں ہماری جماعت کے متعلق لکھی جاچکی ہیں۔جرمنی میں بھی اور فرانس میں بھی اور اٹلی میں بھی۔ان میں سے بعض مستقل کتابیں ہیں اور بعض میں اور باتوں کے ضمن میں احمدیت کا ذکر آ گیا ہے مگر ہم جو کچھ ہیں وہ ہم جانتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک احیاء شروع ہے کی اور جون جوں جماعت قربانی کرتی چلی جاتی ہے اسی قدر اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو زندہ کرتا چلا جاتا ہے لیکن اگر ہماری جماعت ساری موت قبول کرے تو ساری حیات بھی اُسے میسر آ جائے۔یہ بالکل ممکن ہے کہ بعض لوگوں کو اس قربانی کا دنیوی زندگی میں انعام نہ ملے مگر تم میں سے کون ہے جو اپنی اولاد کے لئے قربانی نہیں کرتا۔اگر ہم اپنی زندگی میں اس فتح کو نہ دیکھیں مگر ہماری اولادیں دیکھ لیں تو کیا یہ ہمارے لئے کم خوشی کا موجب ہو سکتا ہے؟ تم اپنی اولا دکو پڑھاتے ہو مگر تمہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ تم اس کے پڑھنے اور پھر ملا زم ہونے تک زندہ بھی رہو گے یا نہیں۔تم قربانی کرتے چلے جاتے ہو اور یہ سمجھ لیتے ہو کہ اگر ہماری اولا د کو کچھ ملا