خطبات محمود (جلد 20) — Page 305
خطبات محمود ۳۰۵ سال ۱۹۳۹ء یہ بیوقوفی کی بات ہے۔مجھے مصری صاحب سے جو اختلاف تھا وہ یہ تھا کہ وہ گالیاں دیتے تھے۔اشتعال انگیز الفاظ استعمال کرتے تھے اور لڑائی جھگڑا پیدا کرنے کے ذرائع ڈھونڈتے تھے اور یہ بات ایسی ہے جسے کوئی شریف انسان برداشت نہیں کر سکتا لیکن اگر ان کا اختلاف اسی حد تک رہے کہ وہ اپنی باتیں سنائیں اور ان کے دلائل پیش کریں تو وہ دلائل اگر صحیح ہوں گے تو نہ صرف میں ان کو تسلیم کروں گا بلکہ میں جماعت کے دوستوں سے بھی کہوں گا کہ وہ ان کی باتوں کو مان لی لیں اور اگر وہ دلائل غلط ہیں تو ان کا سلسلہ پر اثر ہی کیا ہو سکتا ہے۔بہر حال کسی کتاب کے پڑھنے سے دوسرے کو روکنا اتنی بڑی نادانی ہے کہ اس سے بڑی نادانی اور کوئی نہیں ہو سکتی۔اگر مصری صاحب نے کوئی سچائی پیش کی ہے تو اس کو ماننا تمہارا بھی فرض ہے اور میرا بھی اور اگر وہ جھوٹ ہے تو اس کو رڈ کرنے کی مجھے کیا ضرورت ہے؟ یا مجھے کیا پڑی ہے کہ میں اس کے پڑھنے سے لوگوں کو روکوں۔آخر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ سچائی میرے پاس ہو اور دلائل دوسرے کے پاس ہوں اور اگر ایسا ہی ہو تو اللہ تعالیٰ پر یہ شدید ترین الزام عائد ہوتا ہے کہ وہ سچائی کے لئے دلائل مہیا نہیں کرتا۔پس اگر مصری صاحب نے جو باتیں پیش کی ہیں وہ سچی ہیں تو پھر اُن کے پڑھنے سے لوگوں کو روکنا بہت بڑا گناہ ہے اور اگر ہم روکیں تو قیامت کے دن یقیناً ہم ایسی حالت میں اُٹھائے جائیں گے کہ ہمارا منہ کالا ہو گا اور خدا کے حضور ہم لعنتی قرار پائیں گے لیکن اگر وہ جھوٹ ہے تو کی پھر مٹی کے شیر سے ڈرنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔بھلا اس سے بھی زیادہ کوئی بزدل ہوسکتا ہے جس کے کمرہ میں مٹی کا شیر پڑا ہوا ہو اور وہ اُسے دیکھتے ہی باہر نکل جائے اور دوسروں کو بھی نکال دے اور کہے کہ جلدی چلو یہاں کمرے میں ایک شیر ہے کہیں وہ پھاڑ نہ ڈالے۔پس جبکہ میرے نزدیک اس کی حیثیت ایک مٹی کے بے جان بُت سے زیادہ نہیں تو میں لوگوں کو اس سے روک کر بیوقوف کیوں بنوں۔میرے نزدیک تو ان کے دلائل اپنے اندر کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔محض ان کی بناوٹ اور کستانی ہے بلکہ میں تو اس کتاب کو اس قابل بھی نہیں سمجھتا کہ خود اس کا جواب دوں۔بالخصوص اس لئے کہ یہ مضمون ایسا ہے جس کے متعلق میں اب تک خاموش رہا ہوں۔ہاں جماعت کے بعض اور دوست جو اس معاملہ میں جوش رکھتے ہیں وہ اگر چاہیں تو جواب