خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 304

خطبات محمود ۳۰۴ سال ۱۹۳۹ء وہ شکست کھائیں گے اور بد عمل لوگوں کا بارانہیں کامیاب نہیں ہونے دے گا۔پس جب تک جماعت اس نکتہ کو نہیں سمجھتی اور اس کے اندر یہ بیداری پیدا نہیں ہوتی کہ جو لوگ فعال نہیں ، جو کام کرنے والے نہیں ، جو قر بانی کرنے والے نہیں ، جو دین کے لئے تکالیف اور مصائب برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں وہ ہر گز اس قابل نہیں کہ جماعت میں رہیں۔اس وقت تک وہ ہرگز ان عظیم الشان کا میابیوں کو نہیں دیکھ سکتی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے مقدر ہیں اور جول کر تو ر ہیں گی مگرممکن ہے ہماری غفلت کی وجہ سے کچھ سال پیچھے جا کر ملیں۔بے شک اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا ہوا ہے کہ ہماری جماعت ترقی کرے گی مگر یہ وعدہ کی جماعت کے متعلق ہے۔یہ نہیں کہا کہ میں بھی ترقی کروں گا یا تم بھی ترقی کرو گے۔میں نے یہاں ”میں“ کے لفظ کا ذکر بطور مثال کیا ہے ورنہ میرے ساتھ خدا تعالیٰ کے ذاتی وعدے بھی ہیں۔پس میں نے جو ”میں“ کا لفظ استعمال کیا ہے یہ صرف مثال کے طور پر کیا ہے اور میرا کی منشاء اس سے یہ ہے کہ اس میں زید یا بکر کے متعلق کوئی وعدہ نہیں بلکہ اصل وعدہ یہ ہے کہ جماعت احمد یہ ترقی کرے گی۔تم جانتے ہو کہ کتنے ہی لوگ ہیں جنہوں نے سر نکالا اور جماعت میں اُنہوں نے بغاوت کی۔پھر تم یہ بھی جانتے ہو کہ کس کس طرح تم ان فتنوں کو دیکھ کر کانپ اُٹھے تھے اور کس کس طرح کی رقعوں پر رقعے لکھ کر مجھے پریشان کرتے تھے کہ ان لوگوں سے نرمی اور رعایت کی جائے ورنہ فساد بڑھ جائے گا مگر بتاؤ پھر وہ لوگ کہاں گئے ؟ ابھی دو سال کا عرصہ نہیں ہو تم میں سے ہر شخص اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائے کہ کیا اس وقت مصریوں کی شکل میں ایک بہت بڑی مصیبت تمہارے سامنے نہیں آئی تھی ؟ تم کس طرح اس مصیبت کو دیکھ کر گھبرا اٹھے تھے مگر آج با وجوداس بات کے کہ وہ تمہارے پہلو میں رہتے ہیں تمہیں کوئی پریشانی نہیں۔تمہیں کوئی تکلیف اور بے چینی نہیں بلکہ آج تو تمہیں اُن کی اتنی بھی پرواہ نہیں جتنی سُوکھے ہوئے پتہ کی ہوتی ہے اور جو راہ کی چلتے ہوئے پاؤں کے نیچے آ جاتا ہے مگر مجھے تعجب ہے بعض لوگ آجکل بھی مجھے اس قسم کے خط لکھتے رہتے ہیں کہ مصری صاحب نے مصلح موعود کی پیشگوئی کے متعلق ایک کتاب لکھی ہے اور جماعت کے لوگ اس کتاب کو پڑھتے ہیں۔انہیں اس کتاب کے پڑھنے سے روکا جائے حالانکہ