خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 277

خطبات محمود ۲۷۷ سال ۱۹۳۹ء رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس قسم کے کئی آداب سکھائے ہیں مثلاً آپ نے فرمایا تی کھانا اطمینان اور وقار سے کھاؤ کے دائیں ہاتھ سے کھاؤ ، شے بائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ۔اسی طرح کی اِدھر اُدھر سے کھانا نہ کھاؤ بلکہ ہمیشہ اپنے آگے سے کھانا شروع کرو اور کھانا اس طرح نہ کھاؤ گویا تمہیں اس کی شدید حرص ہے۔اب دائیں ہاتھ یا بائیں ہاتھ سے کھانا کھانے میں کیا فرق ہے؟ کوئی بہت زیادہ فرق نہیں۔دائیں سے نہ کھایا بائیں سے کھا لیا یا اس میں کیا حرج ہے اگر کسی نے سامنے سے لقمہ لینے کی بجائے ادھر اُدھر سے کھانا کھانا شروع کر دیا کیا ان آداب کو اگر ملحوظ نہ رکھا جائے تو ہیضہ ہو جاتا ہے؟ یا کھانا زہر والا بن جاتا ہے؟ کچھ بھی نہیں ہوتا۔جس طرح ایک شخص کا پیٹ بھرتا ہے اسی طرح دوسرے کا پیٹ بھر جاتا ہے۔تم کوئی ایسی دلیل نہیں دے سکتے جس سے تم یہ واضح کر سکو کہ اس میں یہ فائدہ ہے اور اس میں وہ۔صرف یہ ایک تہذیب کی علامت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقرر فرمائی۔بے شک ان میں فوائد بھی ہیں مگر وہ اتنے باریک ہیں کہ ہر شخص ان کو سمجھ نہیں سکتا لیکن ان پر عمل کرنے سے ایک تو کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا متبع بن جاتا ہے اور دوسرا جو عمل نہیں کرتا وہ نا فرمان بن جاتا ہے۔اسی طرح یہ سوال کہ لقمہ دو انگلیوں سے لینا چاہئے یا تین یا چار سے اس میں بھی سنت کے حوالوں سے بڑی بھاری فرق نظر آتا ہے بلکہ جاننے والے جانتے ہیں کہ ہر ملک میں منہ میں لقمہ ڈالنے کا الگ الگ رواج ہے۔کوئی سامنے سے منہ میں ڈالتا ہے اور کوئی پہلو سے۔جولوگ سامنے سے لقمہ ڈالتے ہیں۔وہ جب ان لوگوں کو دیکھتے ہیں جو پہلو سے لقمہ ڈال رہے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں یہ کیسے بد تہذیب ہیں انہیں منہ میں لقمہ ڈالنا بھی نہیں آتا اور جو لوگ پہلو سے لقمہ ڈالنے کے عادی ہیں وہ جب ان لوگوں کو دیکھتے ہیں جو سامنے سے لقمہ ڈالتے ہیں تو انہیں تہذیب و تمدن سے نا آشنا قرار دینے لگ جاتے ہیں۔تو ان باتوں پر رسم و رواج کا بڑا اثر ہوتا ہے مگر جہاں شریعت کی پسندیدگی کا سوال بھی پیدا ہو جائے وہاں اس کی اہمیت کا انکار کرنا سخت بیوقوفی ہوتی ہے کیونکہ شریعت کی تمام باتوں میں حکمت ہوتی ہے چاہے وہ حکمت کسی کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے تو یہ سب باتیں تعلیم سے آتی ہیں اور تعلیم کے نتیجہ میں ہی صحیح تمدن پیدا ہوتا ہے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ غیب سے کسی کو علم دے دے۔