خطبات محمود (جلد 20) — Page 21
خطبات محمود ۲۱ سال ۱۹۳۹ء عملی طور پر اپنے اخلاص اور ایمان کا ثبوت دیں گے۔صرف نام لکھوا دینا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ ضروری ہے کہ نام لکھوانے کے پیچھے ایک مضبوط ارادہ، عزم اور ہمت ہو۔پختہ عزم اور مضبوط ارادہ کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور اس نیت کے ساتھ کہ خود بھی احمدی بننا ہے اور دوسروں کو بھی بنانا ہے۔اس صورت میں تمہیں لازماً احمدیت کو سیکھنا پڑے گا ، اپنے اعمال درست کرنے پڑیں گے اور اس طرح ایک طرف تمہارا اپنا ایمان اور اخلاق ترقی کرے گا اور دوسری طرف کی جماعت ترقی کرے گی اور تم ایسے الہی فضل مشاہدہ کرو گے جو روحانیت کے ساتھ ہی تعلق کی رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنے والوں کی کوئی حد بندی نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے کی دربار میں سب کے لئے گنجائش ہے۔دنیوی حکومتیں تو کچھ آدمی ملازم رکھ کر کہہ دیتی ہیں کہ اور گنجائش نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی درباری خواہ ساری دُنیا ہو جائے اور اُسے ساری دنیا کو بھی معجزے دکھانا پڑیں اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں آسکتی۔پس چاہئے کہ ہم میں سے ہر فرد کوشش کرے کہ اللہ تعالیٰ کے معجزوں کا مورد ہو۔یہ نہ ہو کہ تم میں سے ایک غریب زمیندار کو بھی دیکھ کر لوگ انگلیاں اُٹھا ئیں اور کہیں کہ یہ بے گس ہے جو سلوک چا ہو اس کے ساتھ کرلو بلکہ یہ ہو کہ اگر کوئی احمدی کہیں اکیلا ہو تو لوگ اس کی طرف انگلیاں اُٹھا ئیں اور کہیں کہ یہ اکیلا ہے مگر اسے چھیڑنا نہیں کیونکہ اس کو تکلیف دینے سے خدا تعالیٰ کا قہر نازل ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کے دربار میں جتنے لوگ چاہیں یہ مقام حاصل کر سکتے ہیں۔وہاں ساری دُنیا کے لوگوں کے لئے گنجائش کی ہے بغیر اس کے کہ اس میں کوئی کمی ہو۔پس اس ایمان پر تسلی نہ پا جاؤ جس پر تمہاری عقلیں تسلی پاتی ہیں بلکہ وہ اخلاق دکھاؤ کہ جس سے خدا تعالیٰ کے پیارے بن جاؤ اور خوب یا درکھو کہ اِس کے لئے علم کی ضرورت نہیں ، روپے کی ضرورت نہیں، طاقت کی ضرورت نہیں، بلکہ صرف نیت کی ضرورت ہے اور اس عزم کی ضرورت ہے کہ خدا تعالیٰ کی حکومت تمہارے دلوں پر ہو۔دل کی پاکیزگی اور صفائی اور روح کے فرمانبردار ہونے کی ضرورت ہے۔اس کے بعد میں بیرونی جماعتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلد از جلد واقفین کی فہرستیں تیار کر کے بھجوا دیں تا ان کے علاقوں میں بھی تبلیغ کے نظام کو مکمل کیا جائے۔شروع میں