خطبات محمود (جلد 20) — Page 174
خطبات محمود ۱۷۴ سال ۱۹۳۹ء دریافت کرنے کے پیچھے لگ جاؤ۔تو ضروری نہیں ہوتا کہ ان باتوں کی حکمتیں سمجھائی جائیں۔مگر بعض دفعہ اللہ تعالیٰ سمجھا بھی دیتا ہے اور اس طرح قرآنی علوم کھولتا رہتا ہے۔بہر حال مباحثات کے باب میں میرا وسیع تجربہ یہ ہے کہ قرآنی علوم ایسے ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی دشمن نہیں کر سکتا۔اگر ہماری جماعت کے نوجوان ان قرآنی علوم کو سیکھ لیں تو جو دلائل اور براہین کی لڑائی ہے اس میں کوئی بڑے سے بڑا لشکر بھی ان کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتا۔دوسری چیز عمل ہے۔اگر نوجوان اخلاق فاضلہ سیکھ لیں اور پھر عملی طور پر بھی ان کا قدم کی ہمیشہ آگے کی طرف بڑھتا چلا جائے تو دُنیا کیا بڑے بڑے دینوں پر بھی وہ غالب آ سکتے ہیں۔تیسری چیز سامانوں کی کمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسان کامیابی سے محروم رہ جاتا ہے۔اِس کے لئے میں نے دُعا کا طریق بتایا ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہوں اور ہمارے سامانوں کی کمی کو پورا کر دیں اور یقیناً اگر ہماری جماعت کے نوجوان نہ صرف دلائل سے کام لینے والے کی ہوں ، نہ صرف اخلاق فاضلہ کے مالک ہوں بلکہ دُعاؤں سے بھی کام لینے کے عادی ہوں تو ان کے مقابلہ میں کوئی طاقت نہیں ٹھہر سکتی۔میں نے خدام الاحمدیہ کے سامنے ایک پروگرام پیش کر دیا ہے اور میں انہیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ان باتوں کو یا درکھیں جو میں نے بیان کی ہیں اور ہمیشہ اپنے آپ کو قومی اور ملکی خدمات کے لئے تیار رکھیں۔دُنیا میں قریب ترین عرصہ میں عظیم الشان تغیرات رونما ہونے والے ہیں اور در حقیقت تحریک جدید ایک ہنگامی چیز کے طور پر میرے ذہن میں آئی تھی اور جب میں نے اس تحریک کا اعلان کیا ہے اُس وقت خود مجھے بھی اس تحریک کی کئی حکمتوں کا علم نہیں تھا۔اس میں کوئی طبہ نہیں کہ ایک نیت اور ارادہ کے ساتھ میں نے یہ سکیم جماعت کے سامنے پیش کی تھی کیونکہ واقعہ یہ تھا کہ جماعت کی اُن دنوں حکومت کے بعض افسروں کی طرف سے شدید ہتک کی گئی تھی اور سلسلہ کا وقار خطرے میں پڑ گیا تھا۔پس میں نے چاہا کہ جماعت کو اس خطرے سے بچاؤں مگر بعض کی اوقات اللہ تعالیٰ کی رحمت انسانی قلب پر تصرف کرتی اور روح القدس اُس کے تمام ارادوں اور کاموں پر حاوی ہو جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں میری زندگی میں بھی یہ ایسا ہی واقعہ تھا۔جبکہ روح القدس میرے دل پر اُترا اور وہ میرے دماغ پر ایسا حاوی ہو گیا کہ مجھے یوں محسوس ہوا گویا اس نے مجھے