خطبات محمود (جلد 20) — Page 173
خطبات محمود ۱۷۳ سال ۱۹۳۹ء اس کے مقابل پر عشاء کی نماز ظہر کے مقابل پر ہے اور اس میں دوسنتیں اور تین وتر لازمی کی ہیں۔وتر کی رکعت نکال دی جائے تو چار نوافل ہو جاتے ہیں۔یہ ظہر کی دو دو سنتیں فرض کر کے کی ظہر کی سنتوں کے برابر ہو جاتی ہیں لیکن اگر چھ یا آٹھ سنتیں قرار دی جائیں تو پھر یہ کم رہ جاتی ہیں لیکن جب دیکھا جائے کہ اس کے بعد تہجد پر زور دیا گیا ہے تو ظہر کے نوافل کی کمی کا ازالہ کی اس سے ہو جاتا ہے۔علاوہ ازیں وتروں کے بعد بھی دو نفل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاص تعہد سے بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔شے اس سے بھی ظہر اور عشاء کی رکعات برا بر ہو جاتی ہیں مگر یہ ایک وسیع مضمون ہے۔میں نے اشارۃ اس کی طرف توجہ دلائی ہے۔غرض عشاء کی نماز جو عصر کی نماز کے مقابلہ میں تھی اس میں کسی زیادتی کی گنجائش نہیں تھی۔صرف مغرب کی نماز ہی رہتی تھی جسے طاق بنانے کے لئے اس میں ایک رکعت کی زیادتی کی جا سکتی تھی۔اسی حکمت کے ماتحت خدا تعالیٰ نے مغرب کی نماز کی تین رکعتیں مقرر کر دیں کیونکہ کسی نماز کا تین رکعت پر مشتمل ہونا نمازوں کے طاق بنانے کے لئے ضروری تھا اور ادھر ضروری تھا کہ یہ زیادتی رات کی نمازوں میں کی جائے۔یہ جتانے کے لئے کہ مصیبت کے وقت انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے مگر رات کی نمازوں میں سے فجر میں یہ زیادتی نہیں کی جاسکتی تھی کیونکہ وہاں لمبی تلاوت قرآن کا حکم دے دیا گیا تھا۔عشاء کی نماز میں بھی یہ زیادتی نہیں ہو سکتی تھی صرف مغرب کی نماز رہتی تھی۔سوخُدا نے مغرب کی نماز میں مسلمانوں کی کو تین رکعت پڑھنے کا حکم دے دیا۔اب بظاہر اس حکمت کے بتانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ یہ ایسا معاملہ ہے جس پر آمَنَّا وَصَدَّقْنَا کہنا چاہئے نہ یہ کہ تفصیلات میں پڑ کر انسان کی بار یک در بار یک حکمتیں معلوم کرنے کی کوشش کرے اور اگر ایسی ہی باتوں میں انسان مصروف ہو جائے تو کہہ سکتا ہے کہ پہلے رکوع کیوں رکھا اور سجدہ بعد میں کیوں رکھا ؟ کیوں نہ سجدہ پہلے رکھ دیا اور رکوع بعد میں؟ اور گو اس میں بھی حکمتیں ہیں مگر تمہارا کام یہ نہیں کہ تم ان باتوں میں اپنا وقت ضائع کرو۔تمہیں جب رکوع کرنے کو کہا جاتا ہے تو تم رکوع کرو ، جب سجدہ کرنے کو کہا جاتا ہے تو سجدہ کرو۔تم پر جب نماز کی حقیقت منکشف ہو چکی ہے تو تمہارا یہ کام ہے کہ جس طرح خدا نے نمازیں پڑھنے کا حکم دیا ہے اسی طرح تم نمازیں پڑھو نہ یہ کہ چھوٹی چھوٹی بات کی حکمت