خطبات محمود (جلد 20) — Page 163
خطبات محمود ۱۶۳ سال ۱۹۳۹ء ایمان لانے والے زیادہ تر نوجوان ہی ہوتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ بوڑھے بوڑھے اس کے سلسلہ میں شامل ہوں اور چند روز خدمت کر کے وہ وفات پا جائیں اور سلسلہ کی تعلیم کو آئندہ نسلوں تک پہنچانے والے کوئی نہ رہیں۔پس وہ بوڑھوں کی بجائے زیادہ تر نو جوانوں کو اپنے سلسلہ میں شامل کرتا ہے اور نوجوانوں کی جماعت کو ہی نبی کی تربیت میں رکھ کر درست کرتا ہے تا کہ وہ نبی کی وفات کے بعد ایک لمبے عرصہ تک اس کے لائے ہوئے نور کو دُنیا میں پھیلا سکیں اور اس کی تعلیم کی اشاعت اور ترویج میں حصہ لے سکیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مبعوث ہوئے تو آپ کے مقرب ترین صحابہ قریباً سارے ہی ایسے تھے جو عمر میں آپ سے چھوٹے تھے۔حضرت ابو بکر آپ سے اڑھائی سال عمر میں چھوٹے تھے ، حضرت عمر آپ سے ساڑھے آٹھ سال عمر میں چھوٹے تھے اور حضرت علیؓ آپ سے ۲۹ سال عمر میں چھوٹے تھے۔اسی طرح حضرت عثمان ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بھی ۲۰ سال سے لے کر ۲۵ سال تک آپ کی سے عمر میں چھوٹے تھے۔یہ نوجوانوں کی جماعت تھی جو آپ پر ایمان لائی اور اس جوانی کے کی ایمان کی وجہ سے ہی مسلمانوں کی جماعت کو یہ فائدہ پہنچا کہ چونکہ یہ ایک لمبے عرصہ تک کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تربیت میں رہے تھے اور پھر ان کی عمریں چھوٹی تھیں اس کی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد بھی یہ لوگ ایک عرصہ دراز تک لوگوں کو فیض پہنچاتے رہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعوی نبوت کے بعد ۲۳ سال کے قریب زندہ رہے ہیں۔اب اگر ساٹھ سالہ بوڑھے ہی آپ پر ایمان لاتے اور نوجوان طبقہ اس میں شامل نہ ہوتا تو نتیجہ یہ ہوتا کہ اِن میں سے اکثر مکہ میں ہی وفات پا جاتے اور مدینہ کے لوگوں کے لئے نئی ٹریننگ شروع کرنی پڑتی کیونکہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ پہنچتے تو پہلی تمام جماعت ختم ہو چکی ہوتی اور آپ کو ضرورت محسوس ہوتی کہ ایک اور جماعت تیار کریں جو اسلام کی باتوں کو سمجھے اور آپ کے نمونہ کو دیکھ کر وہی نمونہ دوسروں کو کی اختیار کرنے کی تلقین کرے۔اگر ایسا ہوتا تو اسلام کے لئے کس قدر مشکلات ہوتیں مگر اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں ہونے دیا۔اس لئے ایسا انتظام فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ سے مدینہ تشریف لے گئے تو بجائے کسی نئی جماعت کی ٹریننگ کے وہی نوجوان جو مکہ میں