خطبات محمود (جلد 20) — Page 144
خطبات محمود ۱۴۴ سال ۱۹۳۹ء کیوں ہمارے سپرد کیا گیا ہے؟ حالانکہ استقلال کے معنے ہی یہ ہیں کہ انسان جس کام پر مقرر کیا جائے خواہ اُس کام کی غرض اِس کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے اُسے کرتا چلا جائے۔اس مادہ کو بھی خدام الاحمدیہ مختلف تجارب سے بڑھا سکتے ہیں مثلاً روزانہ یا ہفتہ وار خدام الاحمدیہ کی حاضری لیں اور جو نہ آئیں یا کبھی آجائیں اور کبھی نہ آئیں اُن کے نام نوٹ کریں اور سمجھ لیں کہ اُن میں استقلال کا مادہ نہیں۔پھر ان غیر مستقل مزاج ممبروں کو توجہ دلاؤ کہ اپنے نقص کو رفع کریں اور اپنے اندر استقلال پیدا کریں اور جب دیکھیں کہ وہ پھر بھی توجہ نہیں کرتے تو اپنے افسروں کے پاس ان کی شکایت کریں۔وہاں بھی اگر اصلاح نہ ہو تو پھر ان سے اعلیٰ افسروں کی کے پاس اور پھر اُن سے اعلیٰ افسروں کے پاس یہاں تک کہ ہوتے ہوتے خلیفہ وقت کے سامنے بھی ان کے ناموں کو رکھا جاسکتا ہے مگر ضروری ہے کہ پہلے خود ان کا علاج سوچا جائے اور ان سے عدم استقلال کا مرض دور کرنے کے لئے کوئی مناسب تجویز کی جائے مثلاً ایک علاج یہی ہوسکتا ہے کہ روزانہ کوئی کام انہیں کرنے کے لئے دیا جائے اور پھر دیکھا جائے کہ وہ کی با قاعدہ اس کام کو کرتے ہیں یا نہیں؟ یہ ضروری ہے کہ وہ کام ایسا ہو جو سب کو نظر آتا ہو خواہ کتنا ہی حقیر نظر آنے والا کیوں نہ ہو۔مثلاً یہ کام بھی ہو سکتا ہے کہ اسے کہہ دیا جائے کہ روزانہ دس بجے اپنے گھر سے باہر نکل کر پانچ منٹ اپنے مکان کا پہرہ دے۔بظاہر یہ ایک بیوقوفی کی بات دکھائی دے گی مگر تمہیں تجربہ کے بعد معلوم ہو جائے گا کہ اس بظا ہر بیوقوفی والی بات پر عمل کرنے کی کے نتیجہ میں رفتہ رفتہ اس میں استقلال کی عادت پیدا ہو جائے گی اور در حقیقت کسی ایک کام کا بھی باقاعدگی کے ساتھ کرنا انسان کے اندر استقلال کا مادہ پیدا کر دیتا ہے۔ہم پانچ وقت جو روزانہ نمازیں پڑھتے ہیں یہ بھی استقلال پیدا کرنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہیں۔اسی لئے میں کہا کرتا ہوں کہ جس نے ایک نماز بھی چھوڑی اُس کے متعلق یہی سمجھا جائے گا کہ اس نے سب نمازیں چھوڑ دیں مگر جو شخص پانچوں وقت کی نماز میں با قاعدہ پڑھنے کا عادی ہے اُس کی طبیعت میں ایک حد تک ضروری استقلال پایا جاتا ہے مگر جو شخص دس سال کے بعد بھی ایک نماز چھوڑ دیتا کہ ہے وہ عدم استقلال کا مریض ہے۔پس اپنے اندر استقلال پیدا کرنے کی کوشش کرو۔چاہے کسی چھوٹی سی چھوٹی بات پر مداومت کے ذریعہ کیوں نہ ہو۔تم کہہ سکتے ہو کہ جب کوئی شخص نماز