خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 143

خطبات محمود ۱۴۳ سال ۱۹۳۹ء اسی طرح یہ بھی خدا تعالیٰ کا مزاج دان ہو جانے کی وجہ سے اُس سے وہ باتیں منوا لیتا ہے جو دوسرے لوگ منو انہیں سکتے۔دیکھو ! میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ دُعا کرتے وقت صفات الہیہ کو مد نظر رکھنا چاہئے اور جس قسم کی دُعا کی جائے اُس قسم کی صفات الہیہ کو جنبش میں لانے کی کوشش کی جائے مگر میں نے ایک شخص کو ایک دفعہ دیکھا وہ دُعا کر رہا تھا ، اِس قد رسوز اور اس قدر تضرع سے کہ اُس کے آنسو بہہ رہے تھے اور اُس کا جسم کانپ رہا تھا مگر وہ دُعا یہ کر رہا تھا کہ اے رحیم و کریم تو میرے فلاں دشمن کو تباہ کر دے۔اب بتاؤ رحیم و کریم کسی دشمن کو کیوں تباہ کرنے لگا وہ تو جب بھی یہ سُنے گا کی کہ اے رحیم و کریم فلاں دشمن کو ہلاک کر دے تو وہ کہے گا کہ میں تو رحیم و کریم ہوں میں اُسے معاف کرتا ہوں۔تو اس قسم کی دُعا مانگنا اللہ تعالیٰ کی مزاج دانی کے خلاف ہے کہ خدا کی اس صفت کو حرکت میں لانا جو لوگوں پر رحم کرنے والی ہے اور کہنا یہ کہ وہ دوسرے کو عذاب دے۔کیا تج جب کسی نے کسی دوسرے شخص کے بچہ کو باپ سے سزا دلوانی ہو تو وہ اُس سے جا کر یہ کہا کرتا ہے کہ آپ کے بچے نے فلاں قصور کیا ہے اُسے سزا دیں یا وہ یہ کہا کرتا ہے کہ اپنے پیارے بچے کو تھپڑ مار دیں وہ تو جب کہے گا کہ اے مہربان باپ اپنے پیارے بچے کو تھپڑ ماردیں تو اُس کا باپ بجائے اُسے مارنے کے اُسے پیار کرنے لگ جائے گا کیونکہ اُس نے پیار کے جذبہ کو برانگیختہ کی کرنے والے الفاظ کا استعمال کیا ہے۔تو ذہانت کی وجہ سے ہی انسان دُنیا میں ترقی کرتا ہے۔ذہانت کی وجہ سے ہی انسان اس مقام پر پہنچتا ہے جب اُس کی دُعائیں دوسروں کی نسبت زیادہ قبول ہونے لگتی ہیں اور ذہانت کی وجہ سے ہی اگر ہم انسانی اصطلاح استعمال کریں تو کہہ سکتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کا مزاج دان ہو جاتا ہے اور اس طرح وہ ہر روز اپنے علم اور اپنے عرفان کی میں ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔اس کے ساتھ ہی میں ایک اور بات کہہ دینا چاہتا ہوں مگر میں اسے لمبا نہیں کروں گا بلکہ مختصر الفاظ میں ہی اس کی طرف توجہ دلا دیتا ہوں اور وہ یہ کہ خدام الاحمدیہ کا سا تواں فرض یہ ہے کہ وہ اپنے اندر استقلال پیدا کرنے کی کوشش کریں۔استقلال اس بات کو کہا جاتا ہے کہ کسی کام کی حکمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے انسان برابر اپنے کام میں لگا رہے۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہمارے سپر د جو کام کیا گیا ہے ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کی