خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 142

خطبات محمود ۱۴۲ سال ۱۹۳۹ء کے ممبران کا فرض ہے کہ وہ خود اس کے لئے سزا تجویز کریں۔اگر وہ سزا بھگتنے کے لئے تیار نہ ہوتی تو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ خدام الاحمدیہ میں شامل رہنے کے قابل نہیں اور اگر وہ سزا بھگت لے گا تو یقینا وہ اگلی دفعہ پہلے سے زیادہ اچھا کام کرے گا۔اگر کوئی اس پر معترض ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ کیوں سزا دی جاتی ہے؟ تو اُسے کہنا چاہئے کہ کیوں اُس نے محبت کے جذبہ کے ماتحت پہلے ہی کام ٹھیک نہ کیا؟ اگر وہ محبت کامل سے کام لیتا تو اُس کے کام میں کوئی خرابی پیدا نہ ہوتی اور اُسے کی سزا بھی نہ ملتی مگر جب محبت والا ذریعہ اُس نے چھوڑ دیا اور محبت کی کتاب سے اُس نے سبق نہیں کی لیا تو اب ضروری ہے کہ اُسے سزا کی کتاب سے سبق دیا جائے۔بہر حال اگر وہ سبق قیمتی ہے جس کے سیکھنے کے لئے وہ اس مجلس میں شامل ہو ا تھا تو جو جائز ذریعہ بھی اُس کے لئے اختیار کیا جائے وہ اچھا ہے اور اگر سبق اچھا نہیں تو پھر اس کے لئے کسی قربانی کی ضرورت نہیں خواہ وہ کی رکس قدر معمولی اور حقیر کیوں نہ ہو۔تو خدام الاحمدیہ کو نو جوانوں کے اندر ذہانت پیدا کرنی چاہئے۔میں ذہانت پیدا کرنے کے ذرائع بتانے کے لئے ہر وقت تیار ہوں صرف ایک بات ہے جس کے لئے انہیں تیار رہنا چاہئے اور وہ یہ کہ جب کسی سے کوئی قصور سر زد ہو تو وہ اس کی سزا برداشت کرنے کے لئے ہر وقت آمادہ رہے کیونکہ اس کے بغیر کبھی ذہانت پیدا نہیں ہو سکتی۔جب یہ ذہانت کسی انسان کے اندر پیدا ہو جائے تو پھر اس کا علم اور زیادہ ترقی کرتا ہے اور جب انسان بہت زیادہ ذہین ہو جاتا ہے تو اُس کا علم کرٹی بڑھنے لگتا ہے۔کتابی علم صرف کتابیں پڑھنے سے بڑھتا ہے مگر لدنی علم ذہانت سے بڑھتا ہے۔جس طرح ذہین آدمی اگلے شخص کی ہر بات سے صحیح نتیجہ نکالتا ہے اُسی طرح جس شخص کا ذہانت کے بعد علم لر ٹی بڑھنے لگتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے ارادہ اور اُس کے منشاء کو اِس کی صفات سے پہچان جاتا ہے۔وہ زمین کو دیکھ کر ، وہ آسمان پر نظر دوڑا کر ، وہ پہاڑوں کی طرف نگاہ اُٹھا کر ، وہ ذرے ذرے اور بات بات کو کی دیکھ کر فوراً تاڑ جاتا ہے کہ الہی منشا کیا ہے اور رفتہ رفتہ ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اُس کی دُعائیں بہت زیادہ قبول ہونے لگتی ہیں اور گو خدا تعالیٰ کے لئے تو اُس لفظ کا استعمال مناسب نہیں مگر انسانی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا مزاج دان ہو جاتا ہے جس طرح وہ شخص جو کسی دوسرے کا مزاج دان ہوتا ہے اس سے بہت جلد اپنی بات منوا لیتا ہے۔