خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 92

خطبات محمود ۹۲ سال ۱۹۳۹ء تاریخوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص گھوڑے کو فروخت کرنے کے لئے بازار میں لایا اور اُس نے کہا کہ اس کی پانچ سو درہم قیمت ہے۔ایک صحابی نے اُس گھوڑے کو دیکھا اور اُسے پسند کیا اور کہا کہ میں یہ گھوڑا لیتا ہوں مگر اس کی قیمت میں پانچ سو نہیں بلکہ دو ہزار درہم دوں گا کیونکہ یہ گھوڑا نہایت اعلیٰ قسم کا ہے اور اس کی قیمت اتنی تھوڑی نہیں جتنی تم بتاتے ہو۔اس پر گھوڑا بیچنے والا اصرار کرنے لگا کہ میں پانچ سو درہم لوں گا اور گھوڑ ا خریدنے والا اصرار کرنے لگا کہ میں دو ہزار درہم دوں گا۔ایک کہتا کہ اے شخص تجھے گھوڑے کی پہچان نہیں یہ گھوڑا زیادہ قیمت کا ہے اور دوسرا کہتا کہ میں صدقہ لینا نہیں چاہتا۔میں اپنے گھوڑے کو جانتا ہوں اس کی قیمت پانچ سو درہم ہی ہے۔سے اس کے کتنا اُلٹ نظارہ آج دُنیا میں نظر آتا ہے۔وہاں تو یہ تھا کہ چیز خریدنے والا قیمت بڑھاتا تھا اور چیز بیچنے والا قیمت گرا تا تھا اور یہاں یہ حال ہے کہ دودو آنے کی چیز بعض دفعہ دس دس روپے میں فروخت کی جاتی ہے۔بمبئی میں میں نے اِن دوسفروں میں جو حال ہی میں میں نے کئے ہیں نہیں دیکھا لیکن آج سے ۱۵ ،۲۰ سال پہلے میں نے جو سفر کئے تھے اُن میں دو دفعہ خود میرے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ ہوا۔بمبئی میں چونکہ عام طور پر ٹو وارد لوگ آتے رہتے ہیں اور وہ قلموں کی شناخت کا مادہ اپنے اندر نہیں رکھتے اس لئے بعض لوگوں نے وہاں یہ طریق اختیار کیا ہوا ہے کہ جب کسی اجنبی شخص کو دیکھیں گے اُسے آملیں گے اور کہیں گے کہ میں مسافر ہوں فلاں جگہ جانا چاہتا ہوں مگر کرایہ کم ہو گیا ہے، میرے پاس یہ قلم ہے اس کی کی پندرہ روپے قیمت ہے مگر آپ دس روپے ہی دے دیں تو میرا کرایہ بن جائے گا۔اب وہ قلم چھ سات پیسے کا ہوتا ہے مگر بعض دفعہ کوئی ایسا اناڑی بھی انہیں مل جاتا ہے جو اس ملمع کو دیکھ کر جو ٹین کے خول پر چڑھا ہوا ہوتا ہے سمجھتا ہے کہ یہ سو دا بڑا سستا ہے اور وہ دس روپے پر اس سے قلم لے لیتا ہے حالانکہ وہ پانچ سات پیسے کا قلم ہوتا ہے۔پھر بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو جھگڑا شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ قیمت زیادہ ہے ذرا کم کرو۔اس طرح وہ دس روپے سے نو روپے پر آتا ہے، پھر نو سے آٹھ پر ، آٹھ سے سات پر ،ساتھ سے چھ پر، چھ سے پانچ پر ، پانچ سے چار پرشی کہ بعض دفعہ وہی قلم جس کی قیمت وہ پہلے پندرہ روپے بتلاتے ہیں چھ سات آنے پر دے دیتے ہیں اور لینے والا سمجھتا ہے کہ میں نے خوب کو ٹا۔حالانکہ پھر بھی وہی شخص انہیں