خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 84

خطبات محمود ۸۴ سال ۱۹۳۹ء غداری کا قلع قمع اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک قوم میں ایسی رُوح پیدا نہ ہو کہ اس کا ہر فرد کی موت کو غذاری پر ترجیح دے اور وہ کہیں کہ ہم مر جائیں گے مگر غداری نہیں کریں گے۔یہ بد دیانتی کبھی انفرادی ہوتی ہے اور کبھی قومی۔انفرادی بد دیانتی اقتصادیات کو بالکل تباہ کر دیتی ہے۔میں جب کشمیر گیا تو مجھے معلوم ہوا کشمیر کے تاجروں کی صرف چاندی کے کام کی ایک کروڑ روپیہ کی تجارت یورپ والوں سے تھی۔اب ایک کروڑ روپیہ کی تجارت کے یہ معنی ہیں کہ ہیں پچیس لاکھ روپیہ انہیں بطور منافع حاصل ہوتا تھا کام کی مزدوری الگ تھی لیکن مجھے بتایا گیا ج کہ اب یہ تجارت سولہ لاکھ روپیہ تک رہ گئی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپ کے لوگ کہتے ہیں یہاں کے مال کا کوئی معیار نہیں کبھی کوئی چیز بھیج دیتے ہیں اور کبھی کوئی۔کبھی تو نہایت اعلیٰ مال روانہ کریں گے اور کبھی اس میں کھوٹ ملا دیں گے۔حالانکہ اگر وہ دیانتداری سے کام کرتے تو کی آج وہ ایک کروڑ کی تجارت تین چار کروڑ روپیہ تک پہنچی ہوئی ہوتی۔پہلے زمانہ میں تو تجارتیں بہت کم تھیں۔تجارت میں زیادتی اسی زمانہ میں ہوئی ہے۔پھر اگر اُس زمانہ میں جبکہ تجارت کا رواج بہت کم تھا ان کی ایک کروڑ روپیہ کی تجارت ہو سکتی تھی تو لازماً اب وہ تجارت تین چار کروڑ روپیہ کی ہو جاتی مگر بجائے اس کے کہ ان کی تجارت تین چار کروڑ روپیہ تک ترقی کرتی اور کروڑ ڈیڑھ کروڑ روپیہ انہیں نفع حاصل ہوتا پہلی تجارت بھی گر گئی اور وہ ایک کروڑ سے اُتر کر سولہ لاکھ روپیہ تک آ گئی۔اگر وہ تھوڑے سے نفع کی خاطر بد دیانتی کر کے اپنے کام کو نقصان نہ پہنچاتے تو نتیجہ یہ ہوتا کہ ان کی یہ تجارت خوب چلتی مگر چونکہ اُنہوں نے بد دیانتی کی اس لئے تجارت میں نقصان ہو گیا تو انفرادی اعتبار بھی دیانت سے ہی قائم رہتا ہے۔انگریزوں کو ہی دیکھ لو اُن کے کئی لوگ دشمن ہیں مگر وہ دشمن بھی یہ اقرار کرتے ہیں کہ تجارت کے معاملہ میں انگریزوں پر زیادہ اعتبار کیا جاسکتا ہے۔وہ اتنا اعتبار جرمنوں پر نہیں کریں گے ، وہ اتنا اعتبار جاپانیوں پر نہیں کی کریں گے جتنا اعتبار وہ انگریزوں پر کریں گے کیونکہ انگریزوں نے دیانتداری کے نتیجہ میں اعتماد پیدا کرلیا ہے۔میں نے دیکھا ہے جاپانیوں پر بھی لوگ زیادہ اعتبار نہیں کرتے اور جاپان کی سے تجارت کرنے والوں کے ہمیشہ دیوالے نکلتے رہتے ہیں۔میں نے ایک دفعہ کلکتہ کے چند تاجروں سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے جاپانی تجارت کرنے والے دیوالے کیوں نکالتے رہتے ہیں کی