خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 575

خطبات محمود ۵۷۵ سال ۱۹۳۹ء مقدمہ ہوا اور خدا تعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ دیوار گرائی گئی۔بعض خوا میں بھی عجیب ہوتی ہیں۔می میں نے اس زمانے میں خواب دیکھا کہ میں بڑی مسجد سے جار ہا ہوں اور دیوار گرائی جارہی ہے۔میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو مولوی صاحب یعنی حضرت خلیفہ امسیح الاوّل تشریف لا رہے ہیں میں نے ان سے کہا کہ دیوار گرائی جا رہی ہے۔خدا کی قدرت ہے کہ پہلے ایک مقدمہ ہوا وہ فیل ہوا، دوسرا ہوا وہ ناکام ہوا ، تیسرے میں کامیابی ہوئی اور دیوار گرانے کا حکم ہوا۔مسجد اقصیٰ میں حضرت خلیفہ اول درس دے رہے تھے جب درس ختم ہوا اور میں گھر کو چلا تو دیکھا کہ دیوار گرائی جارہی ہے۔میں نے پیچھے دیکھا تو حضرت خلیفہ اول آ رہے تھے اور میں نے ان سے کہا کہ دیوار گرائی جارہی ہے۔بعینہ اسی طرح ہوا جس طرح میں نے خواب میں کی دیکھا تھا جہاں تک مجھے یاد ہے۔میں نے یہ خواب حضرت خلیفہ اول کو سُنائی ہوئی تھی اور اُنہوں نے میری بات سُن کر فرمایا کہ تمہاری خواب پوری ہو گئی۔پھر وہ بھی دن تھے کہ چوک کی میں جہاں آج کل موٹریں گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں اس کے سامنے لوگ جانور باندھنے کے لئے کیلے گا ڑ کر جانور باندھ دیتے تھے اور جب احمدی اندھیرے میں مہمان خانہ سے نماز کے لئے آتے تو ٹھوکریں کھا کر گرتے مگر آج یہ زمانہ ہے کہ کہتے ہیں قادیان میں احمدی ظلم کرتے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ مان لو احمدی ظلم کرتے ہیں مگر کیا یہ اللہ تعالیٰ کا نشان نہیں ؟ میں مان لیتا ہوں کہ احمدیوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم پر عمل نہ کیا مگر اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کی سچائی تو بہر حال ظاہر ہے۔مانا کہ ہم ظالم ہو گئے مگر اس ظلم کی تو فیق کا ہمیں ملنا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کا پورا ہونا ہے۔تم ہمیں ظالم مان لو مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر تو ایمان لے آؤ۔اس میں شبہ نہیں کہ غالباً جماعت کے لوگ اس سال زیادہ آئیں گے گو بعض روکیں بھی کی ہیں جنگ کی وجہ سے سرکاری ملازموں کو چھٹیاں نہیں مل سکیں گی یا کم ملیں گی اس لئے ان میں کمی کاج امکان ہے۔اس لئے ممکن ہے کمی بیشی اس طرح پوری ہو جائے لیکن بہر حال سمجھنا یہی چاہئے کہ اس سال پہلے سے زیادہ لوگ آئیں کے اس لئے زیادہ مکانوں اور زیادہ خادموں کی ضرورت ہوگی اور اگر واقع میں تمہارے دلوں میں خوشی ہے تو اس کا اظہار اس طرح کرو کہ زیادہ سے زیادہ کی۔