خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 566

خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء کیونکہ کچھ نہ کچھ خدا تعالیٰ کا نقشہ ضرور چاہئے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو قریب عرصہ میں خدا تعالیٰ نے وہ باتیں دلا دیں جو ان کے اور ان کی قوم کے متعلق موعود تھیں۔اس لئے ان کی قوم میں ایسے مظاہروں کی طرف توجہ نہ تھی۔عیسائیوں کو ایک لمبے عرصہ کے بعد وہ باتیں حاصل ہوئیں اس لئے وہ درمیانی زمانہ میں مظاہرے کرتے رہے کیونکہ کچھ نہ کچھ تو دل خوش کرنے کے لئے ہونا چاہئے۔پھر مسلمانوں کو ان کے موعود انعامات بہت ہی تھوڑے عرصہ میں حاصل ہو گئے کہ حضرت موسی" کی قوم کو جتنے وقت میں کامیابی حاصل ہوئی تھی اس کے ایک تہائی زمانہ میں اُنہوں نے کامیابیاں دیکھ لیں۔اس لئے ان کو بھی کوئی ضرورت نہ تھی کہ ایسے مظاہرے کرتے کی اور نقلیں کرتے۔ہمارا زمانہ بھی عیسوی زمانہ کے نقش قدم پر ہے اور اس کے لئے آہستہ آہستہ ترقی موعود ہے۔اس لئے ہمارے لوگوں میں بھی لاز ما گدگدی پیدا ہوتی ہے کہ اگر ابھی فتح دور ہے تو فتح کے زمانہ کی نقل تو بنا ئیں۔ہندوؤں میں بعض قو میں مثلاً بھا بڑے ایسے ہیں جو گوشت کبھی نہیں کھاتے اور اس بارہ میں بڑی احتیاط کرتے ہیں مگر چونکہ اپنے ہمسائے میں ان کے کانوں میں ایسی آوازیں آتی رہتی ہیں کہ ذرا ایک بوٹی اور دینا یا یہ کہ آج کباب بناتے ہیں اور پھر گوشت کی خوشبو بھی آتی ہے۔اس لئے ان میں سے بعض کی نسبت کہا جاتا ہے کہ جب گوشت کا بہت شوق پیدا ہو تو بڑیاں بنا لیتے ہیں اور پھر ان کو ہی بوٹیاں فرض کر لیتے ہیں اور کی آپس میں کہتے ہیں کہ ایک بوٹی مجھے بھی دینا ذرا شور با اور ڈال دینا وغیرہ اور اس طرح وہ بڑی کو بوٹی کہہ کر اپنے دل کو تسلی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔لڑکیوں کو دیکھ لو خدا تعالیٰ نے ان کی فطرت میں اولاد پیدا کرنا اور اس سے محبت کرنا رکھا ہوتا ہے مگر بھی ان کی عمر اتنی نہیں ہوتی کہ ا عمر ان کی شادی ہو اور اولاد ہو اس لئے وہ گڑیا بنا لیتی ہیں اور اسی سے پیار کرتی ہیں اور کہتی ہیں لاؤ کی اسے دودھ دیں، میری بچی روتی کیوں ہے وغیر ہا وغیر ہا۔یہ ان کی فطرت کا تقاضا ہوتا ہے مگر زمانہ ابھی آیا نہیں ہوتا اس لئے وہ ایسی باتوں سے ہی دل بہلا لیتی ہیں۔میں ڈرتا ہوں بلکہ میں اس کے آثار دیکھ رہا ہوں کہ اس قسم کے نقص جماعت میں پیدا نہ ہو جائیں۔مظاہرات کی طرف طبیعت فطرتا مائل ہوتی ہے اور لوگ چاہتے ہیں کہ چراغاں کیا جائے اور جلوس نکالے جائیں چاہے کتنی قید میں لگا دو پھر بھی کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر ایسا کر ہی لیا جاتا ہے۔یہاں خلافت