خطبات محمود (جلد 20) — Page 544
خطبات محمود ۵۴۴ سال ۱۹۳۹ء کھانے میں مشغول ہو گئے تھے۔جب ٹہلتے ٹہلتے میدان جنگ کے قریب ہوئے تو دیکھا کہ حضرت عمر ایک چٹان پر بیٹھے اور ہے ہیں۔حضرت انسؓ نے حیرت سے دریافت کیا کہ عمر! یہ رونے کا کونسا موقع ہے مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی ہے اور تم رور ہے ہو؟ حضرت عمر نے جواب دیا کہ تمہیں معلوم نہیں فتح کے بعد کیا ہوا ؟ دشمن نے پھر پیچھے سے حملہ کر دیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔حضرت انس نے یہ بات سنی تو اس وقت آخری کھجور ان کے ہاتھ میں تھی اُنہوں نے کہا کہ عمر ! جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا تعالیٰ کے حضور پہنچ چکے ہیں تو ہم نے یہاں رہ کر کیا کرنا ہے؟ جہاں آپ گئے وہیں ہمیں پہنچنا چاہئے۔خدا کی قسم ! میرے اور جنت کے درمیان اس کھجور کے سوا اور کوئی چیز نہیں یہ کہتے ہوئے اُس کھجور کو پھینک دیا اور تلوار لے کر میدانِ جنگ میں جا گھسے۔دایاں ہاتھ کاٹا گیا تو بائیں سے تلوار پکڑ کر لڑتے رہے۔وہ بھی کٹ گیا تو منہ میں پکڑ لی اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے اور جنگ کے بعد جب دیکھا گیا تو جسم پر ستر زخم تھے اور جسم کے کئی ٹکڑے کٹ کر الگ ہو گئے تھے سے مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ آیت مِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ انہی کے متعلق تھی ۵ گو یہ درست نہیں کی بلکہ یقیناً یہ آیت اور بہت سے صحابہ کے متعلق بھی تھی۔مگر اس میں کیا شبہ ہے کہ یہ صحابی اس کے اولین مستحقین میں سے تھے۔پھر اسی اُحد کا اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہے۔لوگ جب مرنے لگتے ہیں ، جب اپنا آخری کی وقت دیکھتے ہیں تو اگر کوئی سامنے آئے تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارے گھر والوں کو سلام کہنا ، اس اس طرح ہمارے دُکھ اور غم کا ان سے اظہار کرنا لیکن جنگ اُحد میں جب صحابہ کو دوبارہ فتح ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ دیکھو کون کون شہید یا زخمی ہوئے ہیں۔ایک صحابی کا بیان ہے کہ میں نے تلاش کرتے ہوئے مدینہ کے ایک انصاری کو دیکھا کہ بُری طرح زخمی کی ہے اور نزع کی حالت میں ہے۔میں نے اسے سلام کہا اور پوچھا کہ کوئی پیغام چاہو تو دے دو۔یہ سُن کر اُس کے چہرے پر خوشی کے آثار ظاہر ہوئے اور اُس نے کہا میں اسی انتظار میں تھا کہ کوئی بھائی ادھر آ نکلے تو اُس کے ذریعہ پیغام بھجوا دوں۔سو تم آگئے ہواب میرے ہاتھ میں ہاتھ دے کر وعده کرد که میرا یہ پیغام ضرور پہنچا دو گے اور ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا کہ میرے رشتہ داروں