خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 477

خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء بستی تباہ نہیں کی جاتی وہ اس آیت میں اس وجہ سے مراد نہیں کہ اس قسم کے عذاب اہلِ مکہ پر آئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں موجود تھے۔حالانکہ خدا یہ کہتا ہے کہ تیری موجودگی میں عذاب ان پر نہیں آسکتا اسی طرح وہ عذاب بھی مراد نہیں جو بعض پہلے انبیاء کی قوموں پر آئے جن سے اللہ تعالیٰ نے ساری قوم اور شہر کو تباہ کر دیا کیونکہ مکہ کی نقد میں اس بات کا تقاضا کرتی تھی کہ وہاں اس قسم کا عذاب نہ آئے اور پھر اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ کہ وہ ملکہ کو قیامت تک عزت کے ساتھ قائم رکھے گا اس بات کا یقینی ثبوت تھا کہ ایسا عذاب مکہ پر نہیں آسکتا۔نہ اُس وقت جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں موجود ہوں اور نہ اُس وقت جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں موجود نہ ہوں۔کیونکہ مکہ نے خدا کے فضل سے کبھی تباہ ہونا ہی نہیں اور اس کے متعلق پہلی کتابوں میں بھی کئی پیشگوئیاں تھیں۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے بالکل قریب اللہ تعالیٰ نے مکہ کو جو محفوظ رکھا وہ بھی اسی پیشگوئی اور وعدے کے مطابق تھا۔میری مرادا بر ہہ کے حملہ سے ہے۔جب وہ حملہ کے ارادہ سے آیا ہے تو بعض لوگ کہتے ہیں کہ کی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت پیدا ہو چکے تھے۔صرف چالیس پچاس دن کے تھے اور بعض کہتے ہیں کہ آپ ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے۔بہر حال وہ آپ کی نبوت کا زمانہ نہیں تھا۔سورہ فیل میں اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔ابرہہ جب لشکر لیکر آیا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر ایسا عذاب نازل کیا کہ لشکر میں چیچک پھوٹ پڑی اور چند دنوں میں ہزاروں آدمی مر گئے۔وہ قوم چونکہ مشرک تھی اس لئے موتوں کی کثرت کو دیکھ کر بھاگ نکلی اور ہزاروں لاشیں کی ان کی وہاں پڑی رہیں جن کی بوٹیاں چیلوں اور گڑھوں نے کنکروں اور پتھروں پر مار مار کر کھائیں تو قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ یہ خبر دی جا چکی ہے کہ مکہ تباہ کی نہیں ہوگا بلکہ ہمیشہ امن کا مقام رہے گا۔اب جس مقام کے متعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی فرمایا کہ وہاں امن رہے گا اور جس مقام کے متعلق رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ کبھی تباہ نہیں ہو گا اس مقام پر جب وہ عذاب آہی نہیں سکتا جو انبیاء کی عدم موجودگی میں آیا کرتا ت ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس آیت سے مراد کیا ہے؟ جب یہ سوال ہمارے سامنے آتا ہے تو اس کے ساتھ ہی ایک اور صورت ہماری ذہن میں