خطبات محمود (جلد 20) — Page 470
خطبات محمود ۴۷۰ سال ۱۹۳۹ء کے یہ معنی کس طرح ہو سکتے ہیں کہ جب نبی کسی جگہ موجود ہو تو وہاں عذاب نازل نہیں ہوا کرتا۔فيهم سے مراد آخر جسمانی قرب ہی ہو سکتا ہے۔یہ تو نہیں ہوسکتا کہ یہاں فیھم سے مراد روحانی قرب لیا جائے۔غرض اس فیھم سے مراد بہر حال جسمانی قرب ہے اور میں جیسا کہ بتا چکا ہوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمانی قُرب کے باوجود کفار پر عذاب آیا اور عذاب بھی وہ آیا جو آیت زیر بحث کے ساتھ ہی ہے۔پھر ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کو دیکھتے ہیں تو یہاں بھی ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ آپ کے زمانہ میں بلکہ آپ کے سامنے ایسے عذاب آئے جو قومی تھے مثلاً جب زلزلہ آیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام زندہ تھے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے قادیان میں بھی زلزلہ آیا۔اسی طرح جب طاعون آئی تو قادیان میں بھی آئی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی تھی۔ایسی طاعون یہاں نہیں آئی جو گھروں کو برباد کر دینے والی اور گاؤں کو اُجاڑ دینے والی ہو مگر بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے یہاں طاعون آئی اور یہ ایک عذاب تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں پر نازل ہوا۔ان حالات میں مَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیهِم " کے یہ معنی تو نہ ہوئے کہ جب نبی کسی قوم میں موجود ہو تو اُس پر عذاب نازل نہیں ہوتا کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اپنی قوم میں موجود تھے جبکہ اُس پر عذاب نازل ہوا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قوم کی میں موجود تھے جبکہ اُس پر عذاب نازل ہوا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی قوم میں موجود تھے جبکہ اُس پر عذاب نازل ہوا۔جیسے میں نے بتایا ہے کہ قادیان میں زلزلہ بھی آیا اور طاعون بھی آئی اور یہ دونوں عذاب تھے جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کئی پیشگوئیاں تھیں۔اس کے علاوہ اور بھی بعض عذاب نازل ہوئے ہیں مگر یہ دوموٹی مثالیں ہیں جن سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ آپ کی موجودگی میں عذاب نازل ہوئے اور اس مقام پر نازل ہوئے جس میں آپ موجود تھے۔پس معلوم ہوا کہ اس آیت کے یہ معنی تو نہیں کئے جا سکتے کہ جب نبی کسی قوم میں موجود ہو تو اُس پر کسی قسم کا عذاب نہیں آ سکتا۔پس لازماً اس کے کوئی اور معنی تلاش کرنے ہوں گے اور کوئی ایسے معنی کرنے پڑیں گے جن کے رو سے ہم یہ سمجھیں کہ بعض قسم کے