خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 447

خطبات محمود ۴۴۷ سال ۱۹۳۹ء میں کود پڑے۔پس جب میں نے کہا کہ میں اپنے لئے اور اپنی جماعت کے دوستوں کے لئے ان حالات سے موت زیادہ پسند کرتا ہوں تو اس کے یہی معنے تھے کہ ہم اس وقت اپنے آپ کو اس مقام پر کھڑا کر دیں گے جس مقام پر کھڑا ہونا دُنیا کے نزدیک موت ہوا اور وہ یقین کرے کہ اب ہم زندہ نہیں رہ سکتے لیکن یاد رکھو جب کوئی قوم موت کے لئے تیار ہو جاتی ہے تو وہی وقت ہوتا ہے جب موت اس پر حرام کر دی جاتی ہے۔میں نے تو اس کی مثال بھی دی تھی اور کہا تھا کی کہ ایک قوم تھی جسے خدا نے کہا مُوتُوا لے یعنی مر جاؤ اور جب وہ موت کے لئے تیار ہوگئی تو کی اللہ تعالیٰ نے اُسے زندہ کر دیا۔اس موت کے یہ معنے نہیں کہ ان لوگوں نے خود کشی کر لی تھی یا تج موت کے لئے اُنہوں نے دُعا مانگنی شروع کر دی تھی بلکہ یہ معنے ہیں کہ وہ نڈر ہو کر اور عواقب سے بے پرواہ ہو کر خدا تعالیٰ کے دین کی مدد اور دشمن مقابلہ کرنے کے لئے اُٹھ کھڑی ہوئی تھی اور اُنہوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب ہم مر جائیں گے مگر خدا تعالیٰ کے دین کو زندہ کر کے رہیں گے اور دراصل یہی وہ وقت ہوتا ہے جب لولے لنگڑے، بہرے کانے ، چھوٹے بڑے اور مضبوط اور کمزور سب کا فرض ہوتا ہے کہ وہ مقابلہ کے لئے نکل کھڑے ہوں۔عام حالات میں صرف اتنا کافی ہوتا ہے کہ قوم کے مضبوط نوجوان حفاظت کے لئے آگے بڑھیں لیکن اگر ایسی قوم حکمران ہو جائے جو جبری طور پر دہریت اور کفر والحاد کو پھیلائے اور مذہب کی اشاعت پر پابندیاں عائد کر دے اور تبلیغ کو روک دے تو اس وقت ہر شخص کا خواہ وہ لولا ہے یا لنگڑا ، اندھا ہے یا کا نا، مضبوط ہے یا کمزور، بیمار ہے یا تندرست فرض ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو قربان کر دے اور مقابلہ کے لئے اُٹھ کھڑا ہو۔پھر اگر اس کے لئے موت مقدر ہے تو مر جائے اور اگر فتح مقدر ہے تو فتح پا کر گھر لوٹے۔مثلاً موجودہ جنگ ہی ہے اگر اس جنگ کے متعلق وہی حالات ظاہر ہوں جن کا مجھے خطرہ ہے تو ایسی صورت میں یہ کوئی سوال نہیں ہوگا کہ انگریز کیا کہتے ہیں؟ اگر انگریز ایسے دشمنوں سے صلح بھی کر لیں تو مومنوں کا فرض ہوگا کہ وہ جنگ جاری رکھیں یا اس ملک کی کو چھوڑ دیں جس میں ایسے حالات پیدا ہو گئے ہوں لیکن اس کے ساتھ یہ بھی یقینی بات ہے کہ چونکہ احمدیت کی فتح کے متعلق خدا تعالیٰ کے وعدے ہیں اس لئے اگر قوم کی قوم تباہ اور ہلاک ہونے کے لئے تیار ہو جائے تو اس کے بعد خدا یہ ارادہ کرے گا کہ میں تم کو مر نے نہیں دوں گا۔