خطبات محمود (جلد 20) — Page 446
خطبات محمود ۴۴۶ سال ۱۹۳۹ء فِي الْاَرْضِ اَبَدًا ے زمین میں تیری کبھی پرستش نہیں ہوگی۔تو کیا ہمارے ساتھ جو وعدے ہیں وہ ان وعدوں سے زیادہ اہم ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے گئے تھے۔زیادہ سے زیادہ تم یہ کہہ سکتے ہو کہ انہی وعدوں کا یہ تسلسل ہے مگر ان وعدوں کے متعلق ہمیں یہ دکھائی دیتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے بڑی بڑی قربانیاں کیں انہوں نے یہ نہیں کہا کہ مدینہ اگر ابو جہل کے قبضہ میں آ گیا تو پھر بھی ہمارا کوئی نقصان نہیں۔اللہ ہماری حفاظت کرے گا۔باقی رہا یہ سوال کہ میں نے کہا ہے اگر ایسے حالات پیدا ہو جائیں جو اسلام کی اشاعت کے منافی ہوں تو میں ایسے حالات میں موت کو زیادہ پسند کرتا ہوں۔اس کے متعلق جو معترض کو حبہ ہو ا ہے تو شاید اُس کی یہ وجہ ہے کہ اس نے خیال کیا ہے کہ میرا اس سے یہ مطلب ہے کہ میں اس موقع پر خود کشی کرلوں گا اگر یہی محبہ کی وجہ ہے تو یہ وسوسہ صرف معترض کی دماغی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ہر شخص کے فقرہ کا مفہوم اس کے عقیدہ کے مطابق ہوتا ہے۔موت کے ایک معنے بے شک خود کشی کے ہوتے ہیں مگر جب ایک مسلمان کے نزدیک خود کشی کرنا بالکل نا جائز ہے تو کی جب وہ یہ کہے گا کہ میں فلاں بات سے موت زیادہ پسند کرتا ہوں تو لازماً اس موت کا خودکشی کے علاوہ کوئی اور مفہوم ہو گا اور اس کے معنے وہی لئے جائیں گے جو قائل کے نزدیک جائز اور درست ہوں گے۔دوسرے معنے موت کے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ہم ایسے حالات میں دُعا کریں گے کہ یا الہی ہمیں مار دے۔مگر یہ بھی درست نہیں کیونکہ جس طرح خود کشی کرنا حرام ہے اُسی طرح اسلام میں موت کی دُعا کرنا بھی منع ہے۔تیسرے معنے اس قسم کے فقرے کے یہ ہو سکتے ہیں کہ ایسے معاملات کے پیدا ہونے پر ہم اپنے آپ کو موت کے خطرہ میں ڈال دیں گے اور یہی معنے اسلام میں جائز اور درست ہیں۔پس اُس نو جوان کو کیوں یہ وہم پیدا ہوا کہ میں خود کشی کا ارادہ رکھتا ہوں یا ایسے حالات کے پیدا کی ہونے پر میں دُعا کروں گا کہ خدا مجھے مارڈالے۔مومن کا کام یہ ہے کہ جب اس قسم کے حالات کی پیدا ہو جائیں وہ عواقب کا لحاظ کئے بغیر مقابلہ کے لئے تیار ہو جائے اور پھر خدا کا حکم چاہے تو ی اسے موت دے دے اور چاہے تو اسے فتح دے۔بہر حال اپنی طرف سے وہ موت کے خطرہ