خطبات محمود (جلد 20) — Page 38
خطبات محمود ۳۸ سال ۱۹۳۹ء دوسروں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مذہب ان کے مد نظر نہیں۔پھر اس کے ساتھ ہی وہ لکھتا ہے کہ گو یہ ایشیا اور افریقہ میں اپنا مذہب پھیلانے کی جد و جہد کر رہے ہیں مگر ایشیا اور افریقہ میں بھی ان کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں کیونکہ وہاں مسلمان مشنری لوگوں کو اسلام میں واپس لا رہے ہیں اور عیسائی مشنریوں سے زیادہ کامیاب ہیں۔اب وہ مشنری جو اسلام کی صحیح خدمت کر رہے ہیں اور عیسائیوں کا مقابلہ کر کے لوگوں کو پھر اسلام میں واپس لا رہے ہیں سوائے احمدیوں کے اور کون ہیں؟ پس اس فقرہ میں گو احمد یہ جماعت اس کے ذہن میں نہیں پھر بھی اُس نے جماعت احمدیہ کی طاقت کا اقرار کیا ہے اور وہ لکھتا ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں جو لوگ اسلام کو پھیلا رہے اور لوگوں کو پھر اسلام میں واپس لا رہے ہیں اُن کی جدو جہد کے مقابل پر مسیحی مشنری نا کام ہو رہے ہیں۔تو حق یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ظہور کے بعد جو تسلسل اسلام میں اللہ تعالیٰ نے قائم کر دیا ہے اُس کا دنیا کے قلوب پر نہایت گہرا اثر ہے۔یا تو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اسلام مٹا اور یا اب یہ سمجھ رہے ہیں کہ اسلام میں دوبارہ زندگی پیدا ہوگئی ہے اور وہ پھر دوسرے مذاہب کا مقابلہ کرنے لگ گیا ہے۔اس عظیم الشان تغیر پر جہاں ہمارا حق ہے کہ ہم خوش ہوں کی وہاں ہمیں یہ امر بھی کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ اگر ہم نے اس تسلسل کو قائم نہ رکھا تو یہ ہماری موت کی علامت ہوگی۔پس ضروری ہے کہ ہم اس تسلسل کو قائم رکھیں۔مصلح انبیاء ہمیشہ فاصلہ فاصلہ پر آیا کرتے ہیں اور یہ کام ان کی اُمتوں کا ہوتا ہے کہ وہ اپنی اولادوں کی اصلاح کی کریں اور ان کے دلوں میں انبیاء کی تعلیمات کو مضبوطی سے گاڑ دیں اور اس طرح مذہب کی طاقت کو بڑھاتے چلے جائیں۔ایک لمبے عرصہ کے بعد جب عالمگیر تنزل ہو جائے تو اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مصلح نبی مبعوث ہو ا کرتا ہے اس سے پہلے نہیں۔ہمارا جو زمانہ ہے یہ بھی ایسا نہیں کہ اس میں جلدی ہی کوئی اور نبی مبعوث ہو۔ہم اللہ تعالیٰ کی طاقتوں کو محدود نہیں کرتے۔اس سے یہ کوئی بعید بات بھی نہیں کہ وہ کسی اور نبی کو بھیج دے لیکن بظاہر یہ ایسا زمانہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں جماعت کو ایک نئے نبی کی قیادت میں کام کرنے کی بجائے خلفاء موعود و غیر موعود کی قیادت کے ماتحت کام کرنا ہوگا۔